رسائی کے لنکس

لخدر ابراہیمی کے شامی وزیر خارجہ سے تعمیری مذاکرات

  • واشنگٹن

شام کے وزیرخارجہ ولید معلم اور بین الاقوامی سفارت کار لخدرابراہیمی کی ملاقات

شام کے وزیرخارجہ ولید معلم اور بین الاقوامی سفارت کار لخدرابراہیمی کی ملاقات

ابراہیمی شام کے عہدے داروں پر زور دے رہے ہیں کہ26 جولائی سے شروع ہونے والی عیدالاضحی کی چار چھٹیوں کے موقع پر فائربندی کی حمایت کریں۔

بین الاقوامی امن کار لخدر ابراہیمی نے سرکاری فورسز اور باغی گروپوں کے درمیان عارضی فائر بندی کی کوششوں کے سلسلے میں ہفتے کے روز دارالحکومت دمشق میں شام کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی۔

شام کی حکومت نے کہاہے کہ ہفتے کے روز بین الاقوامی امن کار لخدر ابراہیمی اور وزیرخارجہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات سنجیدہ اور تعمیری تھے۔

شام کے سرکاری خبررساں ادارے سانا نے کہاہے کہ دونوں راہنماؤں کے درمیان گذشتہ 19 ماہ سے حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی سے منسلک تشدد ختم کرنے کی شرائط کے موضوع پر جامع بات چیت ہوئی۔

نیوز ایجنسی نے کسی مخصوص شرط کا ذکر نہیں کیا لیکن حکومت کے اس موقف کو دوہرایا کہ کسی بھی شکل میں غیر ملکی مداخلت قابل قبول نہیں ہوگی۔

لخدرابراہیمی شام کے اپنے اس دورے میں صدر بشارالاسد اور حزب اختلاف کے راہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

ابراہیمی شام کے عہدے داروں پر زور دے رہے ہیں کہ26 جولائی سے شروع ہونے والی عیدالاضحی کی چار چھٹیوں کے موقع پر فائربندی کی حمایت کریں۔

ایک اور خبرکے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں ہفتے کے روز شام کی سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق سے متعلق برطانیہ میں قائم ایک تنظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز ملک بھر میں لڑائیوں او رتشدد کے مختلف واقعات میں کم ازکم 70 افراد ہلاک ہوگئے۔

بن کی مون اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے جمعے کو ایک بیان میں جاری کیا جس میں عیدکے مقدس مذہبی ایام کے دوران تشددسے اجتناب کی اپیل کی گئی ہے۔

ابراہیمی نے جمعرات کو اردن کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہاتھا کہ 19 ماہ سے جاری لڑائیوں کے بعدایک وقفہ اس تنازع کے طویل مدتی معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤداوگلو نے بھی شام اور باغیوں سے فائربندی کی اپیل کی ہے۔

اس سے قبل اپریل میں طے پانے والی فائربندی کا معاہدہ محض چند روز کے بعد ہی ٹوٹ گیاتھا، جس کا الزام دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر لگایا تھا۔ اس معاہدے کے ثالث اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ، جنہیں اقوام متحدہ اور عرب لیگ نے شام کے لیے اپنا سفیر مقرر کیاتھا، معاہدہ ٹوٹنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG