رسائی کے لنکس

چین نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

  • واشنگٹن

چین کا جوہری بجلی گھر

چین کا جوہری بجلی گھر

چین کی سٹیٹ کونسل نے بدھ کو کچھ نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کافیصلہ کیا جنہیں مارچ 2011ء میں فوکوشیما کے جوہری بجلی کی تباہی کے بعد روک دیا گیاتھا۔

چین نے کہاہے کہ حالیہ برسوں میں توانائی کی کھپت میں تیزی سے اضافے کے باعث اس کی فراہمی کے نظام اور ماحول پر دباؤ میں اضافہ ہواہے۔

توانائی کی پالیسی سے متعلق بدھ کو جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیاہے کہ توانائی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر نامیاتی مواد کے استعمال سے ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شفاف، محفوظ اور مستحکم توانائی فراہم کرنے کی صنعت کے قیام کے لیے حکام نے نئے جوہری بجلی گھروں پر سے پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے توانائی کےشعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور دیرپاتوانائی کی ٹیکنالوجی کو ترقی ملے گی۔

توانائی کے ایک چینی ادارے کیمبرج انرجی ریسرچ ایسوسی ایٹس کے سربراہ زہو سی زہو کا کہناہے کہ چین کو مستقبل کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر زیادہ بجلی پیدا کرنا ہوگی اور کوئلے جیسے اپنی روایتی ذرائع پر انحصار کم کرکے ان کا متبادل ڈھونڈنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔

چین دنیا میں سب سے زیادہ بجلی پیدا اور استعمال کرنے والاملک ہے۔مگر اس کے زیادہ تر بجلی گھر مقامی کوئلے اور درآمد شدہ تیل سے چلتے ہیں جس سے ماحول کی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

چین چونکہ دنیابھر کے لیے مصنوعات تیار کرنے والا ایک مرکزی ملک ہے اس لیے اسے اپنے توانائی کے شعبے کو مستحکم بنیادوں پراستوار کرنے اور ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے نئے ذرائع کی ضرورت ہے۔ ملک میں اس وقت جوہری ذرائع سے محض ایک اعشاریہ آٹھ فی صد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

چین کی سٹیٹ کونسل نے بدھ کو کچھ نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کافیصلہ کیا جنہیں مارچ 2011ء میں فوکوشیما کے جوہری بجلی کی تباہی کے بعد روک دیا گیاتھا۔

بدھ کو جاری ہونے والے وہائٹ پیپر میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے کی تشکیل نو کی جائے ۔ اب تک توانائی میں سرکاری شعبے کے بجلی گھروں کو بالادستی حاصل ہے۔ لیکن چین اب نجی شعبے کو آگے لانے کی حوصلہ افزائی کررہاہے۔

بیان میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں کا تعین رفتہ رفتہ مارکیٹ کی طلب اور رسد پر چھوڑ دیا جائے گا۔

چین اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاربن گیسیں خارج کرنے والا ملک ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ کاربن گیسیں ہمارے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں اور فضا میں ان کی مقدار میں اضافے کے سبب عالمی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہاہے۔ چین نے آلودگی کی روک تھام سے متعلق عالمی کانفرنس میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ 2020ء تک اپنے کاربن گیسوں کا اخراج 45 فی صدتک کم کردے گا۔

اگرچہ کوئلہ بدستور چین میں بجلی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ رہے گا لیکن بدھ کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے تین برسوں کے دوران متبادل ذرائع ، یعنی جوہری قوت ، ہوا اور شمسی ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا حصہ کل پیدوار کے 30 فی صد کے برابر کردیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG