رسائی کے لنکس

عید قرباں ہے مگر بکرے کہاں


لندن میں عید کی نماز کا اجتماع(فائل)

لندن میں عید کی نماز کا اجتماع(فائل)

برطانیہ میں اس سال قربانی کےبکرے کی قیمت 110 سے لے کر130 پاؤنڈ ،جبکہ گائے کا ایک حصہ140 سے 150 پاؤنڈ میں دستیاب ہے۔مگر

عیدالاضحی یا عید قرباں کے آنے سے پر دیس میں بسنے والوں کے دلوں میں قربانی کا جانور خریدنے اور بھاو تاؤ کر نے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے ۔پر دیس میں عید کے رنگ بنا بکرے کے پھیکے پھیکے سے لگتے ہیں۔ نہ تو چھریاں تیز کی جاتی ہیں اور نہ ہی چارہ خریدا جاتا ہے۔چاند رات کی گہما گہمی اس پر بکرے کی لگاتار 'میں میں 'یہ عید سب ہی کچھ یاد دلاتی ہے پر دیسیوں کو۔

مساجد میں عید کی نماز کے اجتماعات میں پورا خااندان شریک ہوتا ہے ، اس برس عید پر چھٹی کا دن نہ ہونے کے سبب لوگ عیدکی نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے۔ پردیس میں رہنے والوں کے لیے قربانی کا طریقہ کار ،اس طریقے سے مختلف ہوتا ہے جو وہ اپنے وطن میں اختیار کرتے تھے۔

کچھ لوگ اپنے وطن میں کسی عزیز یا رشے دار کو رقم بھیج کر قربانی کرواتے ہیں۔تاہم دل میں بکرے سے ملنے اور اس کے دو دانت دیکھنے کا ارمان کہیں مچل کر رہ جاتا ہے ۔

اسکے علاوہ آن لائن قربانی بھی بیرون ملک کافی مقبول ہے اس طریقے کے تحت کسی فلاحی تنظیم کے بنک اکاونٹ میں قربانی کے جانور کی مقررکردہ قیمت جمع کی جاتی ہے اور اس کار خییرمیں شریک ہو کر قربانی کا فریضہ ادا کیا جاتا ہے

باہر کے ملکوں میں ایک طریقہ جو کافی مقبول ہے ،کہ کسی حلال میٹ کی دوکان میں قربانی کے جانور کے لیے ایڈوانس بکنگ کروالی جائے۔

برطانیہ میں اس سال قربانی کےبکرے کی قیمت 110 سے لے کر130 پاؤنڈ ،جبکہ گائے کا ایک حصہ140 سے 150 پاؤنڈ میں دستیاب ہے۔مگر رہا قربانی کے گوشت کا سوال تو اس کے لیے ایک صبر آزما انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہیں یہ حصہ اگلے دن حوالے کر دیا جارہا ہے ،تو کچھ دوکان والے تو دوسرے اور تیسرے روز تک انتظار کروارہے ہیں۔

اورنگزیب صاحب شیفیلڈمیں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ،انھوں نے پاکستان میں اپنے گھر پر بھی قربانی کروائی ہے اور، آج دوسرے دن انھوں نے حلال میٹ اینڈ گروسری کی دوکان میں بکرے کی بکنگ کروا رکھی ہے ،تاہم گوشت کب تک ملے گا وہ خود نہیں جانتے۔

ایک اور رواج بھی پر دیس میں بہت عام ہے، جس میں لوگ اپنے دوست ،احباب کے ہمراہ عید کے دن شہر سے دور فارم ہاؤس پر قربانی کرنے جاتے ہیں ، جہاں کے لائسنس شدہ ذبیح خانوں میں اپنی پسند کے جانور پر اپنے ہاتھوں سے چھری چلا کر قربانی کا فرض ادا کیا جاتا ہے ، اور بعد میں قصابوں کے ہاتھوں سے بنے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے لے کر رات گئے تک گھر پہنچتے ہیں۔

نعیم صاحب نے بھی شیفیلڈ سے جا کر مانچسٹر کے فارم ہاؤس پر قربانی کی ہے ۔انھوں نے بتایا ،ہر سال عید قرباں پر وہ ہمیشہ قربانی کرنے فارم ہاؤس جاتےہیں ،میرا خاندان اس عید کا انتظار کرتا ہے کیونکہ قربانی کے ساتھ ساتھ پورا خاندان ملکر ایک ساتھ عید کی خوشیاں مناتا ہے۔

گوشت مل جانے کے بعد اگلا مرحلہ گوشت کی تقسیم کا بھی ہوتا ہے ۔جناب اگر پڑوسی ہم مذہب ہیں تو ان کو حصہ بھیجا جاتا ہے،رہا فقرا اور مساکین کا حصہ تو اس پر اپنا ہی حق جان کر فریزر میں رکھ لیا جاتا ہے۔

عید اگر ویک اینڈ پر ہے تو باربی کیو پارٹی کا انتظام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں رہتا اور دیکھتے ہی دیکھتے فریزر سے سارا گوشت سلاخوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ مگر اسی بہانے دوستوں کے ہمراہ عید کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ۔

برطانیہ میں عید الاضحی 26 اکتوبر بروز جمعہ منائی گئی ۔ قربانی کا جذبہ ہم مسلمانوں کے اندر آج بھی موجود ہے ،مگر کیا کریں کہ زبان پر رکھے ذائقہ کی قربانی دینا کافی مشکل لگتا ہے ۔
XS
SM
MD
LG