رسائی کے لنکس

شام کے بحران کے حل میں چین مدد کرے: لخدر ابراہیمی

  • واشنگٹن

لخدرابراہیمی اور چینی راہنماؤں کے درمیان بیجنگ میں ملاقات

لخدرابراہیمی اور چینی راہنماؤں کے درمیان بیجنگ میں ملاقات

لخدر ابراہیمی، شام میں لڑائیاں رکوانے کی اپنی کوششوں کے سلسلے میں دو روزہ دورے پر چین میں ہیں، جب کہ اس ہفتے کے شروع میں وہ روسی عہدے داروں سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سفارت کار نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے 19 ماہ سے جاری بحران کے حل کی کوششوں کا حصہ بنے۔

لخدرابراہیمی نے بدھ کے روز بیجنگ میں چین کے وزیر خارجہ یانگ جی چی سے ملاقات میں یہ توقع ظاہر کی کہ چین اس تنازع کے حل میں ایک فعال کردار ادا سکتا ہے۔

لخدر ابراہیمی، شام میں لڑائیاں رکوانے کی اپنی کوششوں کے سلسلے میں دو روزہ دورے پر چین میں ہیں، جب کہ اس ہفتے کے شروع میں وہ روسی عہدے داروں سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔

چین اور روس دونوں ، تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں جن میں شام کی حکومت کے خلاف پابندیاں لگانے کے لیے کہا گیاتھا۔

ابراہیمی نے شام کی حکومت اور باغیوں کے درمیان عیدالاضحی کی چھٹیوں کے دوران عارضی فائربندی کا معاہدہ کروایا تھا مگر دونوں فریقوں نے اس معاہدے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے۔

شام میں بدھ کے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں اور انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری نے کہاہے کہ حکومت نے دارالحکومت دمشق کے مشرقی حصے میں فضائی حملے کیے۔

سرگرم کارکنوں کی ایک اور تنظیم ’ لوکل کوآرڈی نیٹر کمیٹیز‘ نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔

تنظیم کا کہناہے کہ منگل کے روز شام بھر میں 160 سے زیادہ افراد تشدد کے نتیجے میں ہلا ک ہوگئے۔
XS
SM
MD
LG