رسائی کے لنکس

دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں ڈرائی فروٹ کے ٹھیلے پرجلتے چولھے اور اس پر رکھی کڑھائی اور کڑھائی میں گرم گرم ریت میں بھنتی مونگ پھلیاں کھانے کا مزہ ہی نرالہ ہے۔

پاکستان میں اکتوبر کے مہینے کا اختتام موسم سرما کی آمد کا پیغام ہے۔ سندھ اور خاص طور پرکراچی میں نومبر کے آخر تک موسم خاصا سرد ہوجاتا ہے جبکہ دسمبر میں یہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ اس دوران شہر وں اور دیہاتوں دونوں کے منظر تبدیل ہوجاتے ہیں۔آئس کریم اور قلفی بیچنے والوں کی سائیکلیں دو تین ماہ کے لئے گھرکے باہر برآمدوں یا مکان کے عقبی حصے میں چلی جاتی ہیں اور ان کی جگہ ڈرائی فروٹ کے ٹھیلے سڑکوں پر گھومتے اور گلیوں کے کونوں پر نظر آنے لگتے ہیں۔

کراچی سے ریاست اٹلانٹا جا بسنے والے دو بھائیوں اسد عباسی اور صباحت عباسی کا کہنا ہے کہ ’دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں ڈرائی فروٹ کے ٹھیلے پرجلتے چولھے اور اس پر رکھی کڑھائی اور کڑھائی میں گرم گرم ریت میں بھنتی مونگ پھلیاں کھانے کا مزہ ہی نرالہ ہے ۔۔ امریکہ میں یہ منظر کہیں نظر نہیں آتے لیکن ذہن کے ہر گوشے میں اس منظر کا ایک ایک یاد اب تک تروتازہ ہے۔۔۔‘

’۔۔ وہ سخت اورسرد ہواؤں سے بچنے کے لئے گرم کپڑوں میں لپٹا ، منہ اور کانوں کو مفلر سے ڈھانپے مونگ پھلی، تل کے لڈو، مونگ پھلی کی پٹی اور گجک بیچنے والا گل محمد ۔۔‘

’۔۔۔ٹھیلے پر رکھے گیس لیمپ کی چمکیلی روشنی ۔۔۔چلغوزے، اخروٹ، بادام، چنے، نخل، مرمرے، ناریل، انجیر، خشک خوبانی اور اس جیسے کئی میوے خریدتے لوگوں کی بھیڑ۔۔کبھی کبھی تو یادوں کے دریچوں میں گھومتے یہ مناظراس سوچ پراکساتے ہیں کہ کاش وقت کا پہیہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ۔۔یا ہم کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی ۔۔۔ماضی میں جاسکتے۔‘

نومبر اور دسمبر کے مہینوں سے جڑے سردی کے یہ نظارے اگلے چندروز میں کراچی میں عام ہوجائیں گے ۔ ایک بارش برسی نہیں کہ سب ’کانپ ‘ اٹھیں گے۔ سائبیریا اور کوئٹہ سے آنے والی یخ بستہ ہوائیں کسی بھی شام اچانک کراچی کا رخ کریں گی اور سب سے پہلے لنڈا بازار میں گرم کپڑوں کی دکانوں پر لوگوں کا رش امڈ آئے گا۔

لیاقت آباد، ناظم آباد ، گلبرگ ، گولیمار اور نئی کراچی سمیت سب جگہ روئی دھنے والوں اور لحاف گدے بیچنے والوں کے پاس وقت کی کمی ہوجائے گی۔ کمبل اور دلائیاں فروخت کرنے والوں کی مصروفیت بھی بڑھ جائے گی ۔

ایسے میں حلوائیوں کے پاس گاجر کے حلوے کی ڈیمانڈ بھی دوگنی ہوجائے گی کہ کراچی میں سردی کے مزے اس حلوے کے بغیر ادھورے ہیں۔ تازہ اور میٹھی گاجروں ، دووھ، بادام ، اخروٹ، چھوٹی الائچی اور کھوئے کی موٹی موٹی پرتوں سے سجا گرما گرما گاجر کا حلوہ سردیوں کی خاص الخاص لذت ہے۔ پاکستان کے ہر شہر اور ہر کونے میں لوگ اس حلوے کو شوق سے کھاتے ہیں۔ ۔۔اور اب تو ’شوگرفری‘ گاجر کا حلوہ بھی مارکیٹ میں آگیا ہے، اس لئے ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اب کوئی خوف نہیں رہا۔

سردیوں کا ایک تحفہ کافی اور گرما گرما مگر سدا بہار’ دودھ پتی چائے‘ بھی ہے۔سرد موسم میں یہ دودھ پتی کراچی بھرکے ’پشاور، کوئٹہ اور پشین ‘ کے ہوٹلوں کی اسپیشلٹی ہے ۔ لوگ بار بار ’چینک پہ چینک‘ پی جاتے ہیں۔ ان کے لئے سردی سے بچنے اورجسم کو گرم رکھنے کا سب سے سستا نسخہ ہے یہ ۔

کچھ لوگ جو چائے اور کافی کے بعد ’بھی ‘انڈے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ ۔۔نمک اور کالی مرچ کے ساتھ ’فارمی‘ اور’دیسی ‘۔۔مگر۔۔ ابلے ہوئے انڈے کھاکر سردی بھگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کراچی سے پشاور ٹرین کے سفر میں ہراسٹیشن پر آپ کو بلند و بالا آواز میں انڈے بیچتے لوگ مل جائیں گے ۔ ان کا بھی اپنا ایک مخصوص لب و لہجہ اور آواز لگانے کا انداز ہے۔۔’انڈے ۔۔گرما گرم انڈے ۔۔دیسی انڈے ۔۔۔گرماگرم انڈے۔۔۔‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG