رسائی کے لنکس

آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی اور میڈیا

  • فل مرسر

سنڈنی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم(ِِِفائل)

سنڈنی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم(ِِِفائل)

کئی اخبارات نے اپنے اداریوں اور مضامین میں آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی پر الزام لگایا کہ وہ اس ملک کے کثیر الاثقافتی معاشرے کو کمزور بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

آسٹریلیا میں ان پرتشدد مظاہروں پر اب بھی بحث جاری ہے جو امریکہ میں بننے والی ایک اسلام دشمن فلم کے خلاف ستمبر کے دوران سڈنی میں ہوئے تھے۔ چند سو افراد پر مشتمل اس مظاہرے کا اختتام پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں پر ہواتھا۔

آسٹریلیا کی مسلم تنظیموں کو شکایت ہے کہ احتجاج کی کوریج میں کچھ ذرائع ابلاغ نے اشتعال انگیزی سے کام لیا۔

گستاخانہ فلم کے خلاف 15 ستمبر کو سڈنی میں ہونے والا مظاہرہ ، عالمی سطح پر احتجاج کا ایک حصہ تھا۔

جب مظاہرین سڈنی میں واقع امریکی قونصلیٹ کے قریب پہنچے تو پولیس نے ان میں سے کئی افراد کو حراست میں لے لیا جس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی نے احتجاج کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کی بڑے پیمانے پر مذمت کی۔ ان کا کہناہے کہ پرامن مظاہرے کو ایک مختصر تشدد پسند گروپ نے ہائی جیک کرلیا تھا۔

لیکن کئی اخبارات نے اپنے اداریوں اور مضامین میں آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی پر الزام لگایا کہ وہ اس ملک کے کثیر الاثقافتی معاشرے کو کمزور بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب کہ کئی دوسرے لوگوں کا کہناتھا کہ مسلمان، مغرب مخالف مقررین کے زیر اثر آگئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ تشدد کے اس واقعہ سے مسلمان اقلیت اور آسٹریلیا کے مرکزی دھارے کی سوسائٹی کے تعلقات کو نقصان پہنچاہے۔

جمعرات کو نیوساؤتھ ویلزا سٹیٹ پارلیمنٹ کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ میں ان پہلوؤں پر غور کیا گیا کہ کس طرح آسٹریلیا کے مسلمانوں اور دیگر کمیونیٹز کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور یہ کہ پرتشدد ہنگاموں کے بعد نیوز میڈیا کا رویہ کیا رہا۔

کانفرنس کے آرگنائز قرندہ سیدنے، جو آسٹریلیا ز اسلامک ریلیشنز فورم کی بانی بھی ہیں، کہا کہ بعض اوقات میڈیا پر مسلمانوں کی نیوز کوریج انتہائی سطحی یا حقیقت کے برعکس ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات اس کوریج کا جھکاؤ ہیجان خیزی اور یا اختلافات ابھارنے کی جانب ہوتا ہے اور بدقسمتی سے مسلمانوں کو میڈیا کی جانب سے اسی طرح کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سڈنی کے ہنگاموں میں بھی ہم نے اسی رویے کا مشاہدہ کیا۔ ہم نے اسے دنیا بھر کے کئی دوسرے مسائل کے ساتھ دیکھا۔ ہم نے دیکھا کہ عمومی طور پر اسلام کو جارحیت اور تشدد پسندی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، آپ جانتے ہیں کہ دہشت گرد کارروائیوں کے پس منظر کے طور پر اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کے حوالےسے۔ یہ تجزیہ کافی نہیں ہے۔

لیکن میڈیا کے عہدے داروں نے اپنی نیوز کوریج کی شفافیت پراصرار کیا۔ سڈنی ہنگاموں کے کئی روز بعد متعدد اخباروں نے مسلمان اسکالرز کے مضامین شائع کیے ۔ سڈنی مارننگ ہیرلڈ کا کہناہے کہ آسٹریلیا کے واضح مسلم اکثریت کا کہناہے کہ تشدد پر آمادہ ایک چھوٹا سا گروپ ان کی نمائندگی نہیں کرتا۔

آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی کئی ثفافتی رنگوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق دنیا کے 70 سے زیادہ ممالک سے ہے۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق آسٹریلیا میں مسلمانوں کی تعداد چالاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہے جو ملک کی مجموعی آبادی کے سوا دو فی صد کے برابر ہے۔
XS
SM
MD
LG