رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: وفاقی حکومت کے کردار پر اختلاف


صدراوباما، طوفان سے متاثرہ ریاست نیوجرسی کے دورے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

صدراوباما، طوفان سے متاثرہ ریاست نیوجرسی کے دورے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما بُہت جلد وفاقی امدادی رقوم تباہ شُدہ علاقوں کو بھیجنا شروع کریں گے جب کہ ۔اس کے بر عکس مٹ رامنی ایک بار کہہ چُکے ہیں کہ وہ ایسے وفاقی پروگراموں میں کٹوتی کریں گے۔

رواں سال کی صدارتی ا نتخابی مہم کے دوران دونوں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹیوں درمیان جو اہم موضوع زیر بحث رہے ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے میں وفاقی حکومت کا کتنا عمل دخل ہونا چاہئے۔ڈیموکریٹوں کے نزدیک یہ کردار بُہت اہم ہے اوراُن کی وفاقی حکومت سےبُہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ اس کے برعکس ری پبلکن موقف یہ ہے کہ امور مملکت میں حکومت کی کم سے کم مداخلت ہونی چاہئے۔

یوایس اے ٹوڈے

اسی موضوع پر یو ایس اے ٹوڈے اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کوسینڈی نامی تباہ کُن طُوفان کی جس ابتلاء کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اُس نے حکومت کی ذمہ داریوں کا تعیّن کر دیا ہے اخبار کہتا ہےکہ رواں سال کی مہم کے دوران حکومت کے سائز اور کردار کے بارے میں متضاد آراء سامنے آتی رہی ہیں ، لیکن جب ملک کو آفات ناگہانی کا سامنا کرنا پڑ جائے تو ماسوائے چند راسخ الاعتقاد انفرادیت پسندوں کے تمام لوگوں کی حکومت سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وُہ اس بارے میں مُستند انتباہ فراہم کرےگی ، بچاؤکی خدمات اور بحالی کے کام میں امداد دے گی۔ اور وُہ ایسے موقعوں پر اپنے منتخب نمائندؤں سے پارٹی بازی کو بالائے طاق رکھنے کی توقّع کریں گے۔ اخبار کہتا ہے کہ اس ہفتے کے تباہ کُن طُوفان سے اس صدارتی انتخاب میں اس واضح اصول کا اضافہ ہو گیا ہے کہ بعض ایسے کام ہیں جووفاقی حکومت جیسابڑا ادارہ ہی موثّر طور پرسرانجام دے سکتاہے۔قطع نظر اس کے کہ آیا وہ اکیلے ہی اس سے نمٹنے کا اہل ہے یا نہیں۔سب سے مقدّم بات یہ ہےکہ امریکیوں کو محفوط رکھنا ہے ۔ چاہے دہشت گردوں سے یا طوفانوں سے۔

بوسٹن گلوب

اخبار بوسٹن گلوب کہتا ہے کہ امریکہ کے بحر اوقیانُوس کے ساحلی علاقوں پر ہری کین سینڈی کی ہواؤوں اور سمندری لہروں نے جو قیامت ڈھائی ہے۔ اس سے وُہ بنیادی فرق نمایاں ہو گیا ہے۔ جو صدر اوباما اور اُن کے ری پبلکن مدّ مقابل مٹ رامنی کے درمیان موجود ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما بُہت جلد وفاقی امدادی رقوم تباہ شُدہ علاقوں کو بھیجنا شروع کریں گے۔اس کے بر عکس مٹ رامنی ایک بار کہہ چُکے ہیں کہ وہ ایسے وفاقی پروگراموں میں کٹوتی کریں گے۔ اور ان ہنگامی حالات کا انتظام ریاستوں کو منتقل کر دیں گے۔ اُن کا موقّف تھا کہ ایسی اُفتاد کے لئے امداد ی پروگرام کے لئے فنڈ مہیا کرنا ایک غیر اخلاقی امر ہوگا اگر اس سے وفاقی قرضے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ قدرتی آفات سے متعلق رامنی کا فلسفہ ویسا ہی ہے جیسے صحت کے بیمے پر، جسے وہ انفرادی ریاستوں کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز

اسی موضوع پر نیو یارک ٹائمز کے ادارئے کا عنوان ہے ، بڑا طوفان بڑی حکومت کا متقاضی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ بیشتر امریکیوں نے اپنے اس قومی مرکز کا نام نہیں سُنا ہوگا۔جو ہلاکت خیز ہواؤوں اورطغیانی لانے والی سمندری لہروں کے خلاف مربوط اندازمیں قومی سطح پر نمٹنے کے لئے قائم ہے۔یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ایک ایسا مرکز موجود ہے ۔ اوریہ ہنگامی حالات سے نمٹنے والی وفاقی ایجنسی یا ، فیما کے وار رُوم میں قائم ہے۔ جہاں اُس کے عہدہ دار بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ بچاؤ کے کارندوں کو کہاں بھیجنا ہے۔ پینے کا پانی کہاں روانہ کرنا ہےاور جن اسپتالوں کو مریضوں سے خالی کرنا ہے ان کی کیونکر امداد کی جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ آفات ناگہانی سے نمٹنے کے کام کو مربوط کرنا بااختیار وفاقی حکومت کےاُن نہائت ہی اہم فرائض میں سے ایک ہے، جسے مٹ رامنی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا موقف ہےکہ اگر ایسا کرنے سے وفاقی قرضے میں اضافہ ہوتا ہے۔ تو ایسا کرنا وفاقی حکومت کے لئے غیر اخلاقی بات ہوگی۔ اخبار نے اسے ایک بے ہُودہ خیال قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یہ اس ادارے کی طرف عشروں سے جاری ری پبلکن مزاحمت کے عین مطابق ہے، جسے صدر جمی کارٹر نے قائم کیا تھا۔ اور جسے بل کلنٹن کے عہد حکومت میں کابینہ کا درجہ دیا گیا تھا۔لیکن جارج ڈبلیو بُش کے دور میں اس کا درجہ گرا کر ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت کر دیا گیاتھا ۔ کٹرینا کا تباہ کا سانحہ اسی دور میں ہوا تھا۔

اخبار کہتا ہےکہ صدر نے اس ادارے کو دوبارہ کار آمد بنایا۔ لیکن کانگریس کے ری پبلکن ارکان نے فیما کی گرانٹ میں 43 فیصد کی کٹوتی کی ہے۔ اور اُنہوں نے بار بار فیما کے بجٹ کےمطالبات ماننے سے انکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ باوجودیکہ ان ناگہانی آفات سے نمٹنے پر آنے والی لاگت بڑھ گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG