رسائی کے لنکس

طوفان کے بعد نیویارک میں زندگی معمول پر آنا شروع

  • مارگریٹ بشیر

نیویارک کے ٹائمز سکوائر کا زیر زمین ریلوے سٹیشن

نیویارک کے ٹائمز سکوائر کا زیر زمین ریلوے سٹیشن

جمعرات کو جب پبلک بسیں سڑکوں پر آئیں تو بروکلین سے مین ہیٹن جانے کے لیے بس سٹاپوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے لوگوں کے موڈ خوشگوار دکھائی دے رہےتھے۔

سپر سٹارم سینڈی کے گذرنے کےبعد ، نیویارک میں، جہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی، رفتہ رفتہ زندگی اپنے معمول پر آرہی ہے۔ جمعرات کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر آگئی اور لاکھوں لوگوں اپنی ملازمتوں پر واپس چلے گئے ہیں۔ طوفان سے شہر کے جن علاقوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، امدادی کارکن وہاں بدستور خوراک اور پینے کا صاف پانی پہنچا رہے ہیں۔

نیویارک کے لوگوں کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ سخت جان ہوتے ہیں اور کبھی کبھار سخت مزاج بھی۔ لیکن جمعرات کو جب پبلک بسیں سڑکوں پر آئیں تو بروکلین سے مین ہیٹن جانے کے لیے بس سٹاپوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے لوگوں کے موڈ خوشگوار دکھائی دے رہےتھے۔ بس میں سوار ہونے کے لیے، جو انہیں مین ہیٹن مفت پہنچا رہی تھیں، ہرشخص کو اوسطاً آدھے سے ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ وہاں سے انہیں اپنی منزل کے لیے دوسرے روٹ کی بسیں مل سکتی تھیں۔ جب کہ زیر زمین ریلوے کی سروس انتہائی محدود تھی ۔

جمعرات کو اپنے کام پر پہنچنے کی کوشش کرنے والوں میں ایرلین بھی شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بسیں بہت آہستہ چل رہی تھیں ، لیکن کسی کے ہونٹوں پر شکایت نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بس کا سفر ٹھیک تھا، ہر کوئی اپنا کام اچھے طریقے سے کررہاتھا۔ مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا شکریہ۔ اس طرح کے مشکل حالات میں ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

ٹونی ، ایک سپورٹس ٹیلی ویژن چینل ای ایس پی ان میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ وہ مین ہیٹن کے مغربی حصے میں جانا چاہتے تھے جس کے لیے انہیں تقریباً 45 منٹ انتظار کرنا پڑا، لیکن اس پریشانی پر انہیں کوئی شکایت نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن حالات سے ہم اور دوسرے لوگ گذرہے ہیں ، ایم ٹی اے(ماس ٹرانزٹ اتھارٹی) بہت اچھا کام کررہی ہیے۔

سپرسٹارم سے بری طرح متاثر ہونے والے نیویارک کے علاقے سٹیٹن آئی لینڈ کے لیے فیری سروس ابھی تک بند ہے۔ جمعرات کے روز حکام کو اس علاقے سے چار مزید نعشیں ملی ہیں جن میں دونوجوان بھائی بھی شامل ہیں جن کا گھر طوفانی ریلوں میں بہہ گیاتھا۔

ریاست نیوجرسی میں تقریباً بیس لاکھ افرادابھی تک بجلی سے محروم ہیں ۔ وہاں ابھی تک تک ریل گاڑیوں کا نظام بحال نہیں ہوسکا ہے کیونکہ طوفان سے بہت سے بوگیوں کو شدید نقصان پہنچاہے اور حکام محکمہ دفاع کی جانب سے نئی بوگیوں کی فراہمی کا انتظار کررہے ہیں۔

ادھر نیویارک کے ایک ٹیکسی ڈرائیو لال کو پٹرول کی پریشانی ہے۔ ان کا کہناہے کہ میں تیل کے لیے پریشان ہوں۔ تیل نہیں مل رہا۔ زیادہ تر گیس سٹیشن بند پڑے ہیں۔ اگر آج تیل نہ ملا تو میں کل ٹیکسی نہیں چلاسکوں گا۔

ایسے میں جب کہ نیویارک کے لوگ سینڈی کے گذرنے کے بعد اپنے معمولات بحال کرنے کی تگ ودو کررہے ہیں گورنر اینڈریو کومو نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔

ان کا کہناتھا کہ اگر آپ کو پتا چلے کہ نیچے ہال میں کوئی شخص موجود ہے،یا وہاں کوئی بزرگ آدمی ہے ، یا وہاں کسی خاندان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے تو آپ وہاں جائیں اور دروازے پر دستک دے کر پوچھیں کہ آپ ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔

پبلک ٹرانسٹورٹ سسٹم کی بحالی کے ساتھ ساتھ برقی رو کی فراہمی نیویارک شہر کی اولین ترجیح ہے۔ میئر مائیکل بلوم برگ کا کہناہے کہ شہر میں اس وقت بھی تقربیاً پانچ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں جب کہ اس سے قبل یہ تعداد ساڑھے سات لاکھ تھی۔

شہر کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کا کہناہے کہ مڈ ٹاؤن اور لوئر مین ہیٹن کی بجلی ہفتے کے روزتک بحال کردی جائے گی جب کہ دیگر علاقوں کو اس سے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

میئر بلوم برگ کا کہناہے کہ شہر کے پارک ہفتے کی صبح کھول دیے جائیں گے اور پبلک اسکولوں میں پیر سے پڑھائی شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ افراد کو لوٹ مار کے جرم میں پکڑا گیا ہے لیکن گذشتہ دو روز کے دوران قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔ جب کہ طوفان رکنے کے بعد جرائم بڑھنے کے خدشات موجود تھے ۔

نیویارک میں زندگی آہستہ آہستہ اپنے معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔ بہت سی دکانیں اور دفاتر دوبارہ کھل گئے ہیں اور اسٹوروں کے خالی شلفوں کو دوبارہ بھرا جارہاہے۔ جمعرات کو مقامی ایئرپورٹس کی زیادہ تر پروازیں بحال ہوگئی تھیں اور یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ نیویارک سٹی کی میراتھین اتوار کو اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگی۔ اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی، جنہیں سیلابی ریلوں کے باعث بند کردیا گیا تھا، تین روز کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG