رسائی کے لنکس

نیویارک میں ووٹنگ کے خصوصی انتظامات

  • مارگریٹ بشیر

نیویارک۔ خیمے میں قائم ایک پولنگ اسٹیشن

نیویارک۔ خیمے میں قائم ایک پولنگ اسٹیشن

نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے پیر کے روز ایک حکم نامہ جاری کیاجس میں بے گھر ہونے والے ووٹروں کو کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر جا کر اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نیویارک میں چھ نومبر کی صبح صدارتی الیکشن کے روز اگرچہ سورچ چمک رہاہے لیکن موسم انتہائی سرد ہے۔ سپرسٹارم سینڈی کے ہاتھوں شہرمیں بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد الیکشن کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹرباآسانی اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال کرسکیں۔

بورڈ آف الیکشن کے عہدے داروں نے ایسے کئی مقامات پر قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشن دوسری جگہوں پر منتقل کردیے ہیں، جہاں ہری کین سینڈی کے گذرنے آٹھ روز بعد بھی بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے۔

جن علاقوں میں طوفان نے شدید تباہی پھیلائی تھی، وہاں سے ووٹروں کوپولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کے لیے خصوصی بسیں چلائی گئی ہی۔ شہر کے کئی دوسرے مقامات پر پولنگ اسٹیشنوں کو یکجا کردیا گیا ہے اور کئی مقامات پر تو خیمے لگاکر پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں ، تاکہ ووٹر وہاں باآسانی پہنچ سکیں۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے پیر کے روز کہاتھا کہ انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں بے گھر ہونے والے ووٹروں کو کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر جا کر اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ الیکشن کے دن بعض مشکلات درپیش ہیں کیونکہ طوفان کے باعث کئی لوگ بےگھر ہوچکے ہیں، کئی ایک عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں ، کچھ اپنے دوستوں کے گھروں میں مقیم ہیں، بعض اپنے رشتے داروں کے ہاں ہیں اور بعض صورتوں میں ان کے حلقے کے پولنگ اسٹیشن ان کی رہائش سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص اپنے ووٹ کا حق استعمال کرے ، بے گھر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنا ووٹ نہ دے سکے۔

ووٹنگ کے آغاز سے ایک گھنٹے کے بعد بعض پولنگ اسٹیشنوں پر کچھ مسائل پیش آئے ۔ ایک پولنگ اسٹیشن میں بجلی کے جنریٹرز خراب ہوجانے کی بنا پر ووٹنگ دیر سے شروع ہوئی۔

کئی لوگوں کا کہناہے کہ سمندری طوفان سینڈی کی پھیلائی ہوئی تباہی کی وجہ سے شہر میں ووٹ ڈالنے کی تعداد معمول سے کم رہ سکتی ہے۔

بعض لوگوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ووٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے باعث جعل سازی کا امکان بڑھ گیا ہے ۔

نیویارک کے ووٹر صدر براک اوباما یا مٹ رامنی میں سے کسی ایک کے چناؤ کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے کے لیے ایک سینیٹر اورکئی ریاستی اور مقامی عہدوں کے لیے بھی ووٹ ڈال رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG