رسائی کے لنکس

احتجاجاً خود سوزی کے واقعات ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب بیجنگ میں راہنما کی تبدیلی سے متعلق کانگریس پارٹی کا 18 واں اجلاس ہورہاہے۔

تبت میں دو مزید افراد نےاپنے علاقے پر چین کے اقتدار اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو نذرآتش کرلیا جس سے گذشتہ دو روز کے دوران خود سوزی کرنے والوں کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔

جلاوطن تبتیوں نے ، جو اپنے علاقے سے رابطے میں ہیں ، کہاہے کہ ایک تبتی باشندے نے جمعرات کو تبت کے مشرقی علاقے ربکونگ میں خود کو آگ لگالی۔

اسی علاقے میں ایک روز پہلے ایک 23 سالہ خاتون نے ، جو ماں بھی تھی، خودسوزی کرلی تھی۔

جلاوطن تبتیوں کا یہ بھی کہناہے کہ ایک اور شخص نے تبت کے خود مختار علاقے ناگ چو کے قصبے دریرو میں بدھ کے روز خود کو نذر آتش کرلیا تھا۔

احتجاجاً خود سوزی کے واقعات ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب بیجنگ میں راہنما کی تبدیلی سے متعلق کانگریس پارٹی کا 18 واں اجلاس ہورہاہے۔ یہ اہم اجلاس دس سال میں صرف ایک بار ہوتا ہے۔

بدھ ہی کو گومان قصبے میں واقع بودھ عبادت گاہ نگوشل کے تین نوعمر بھکشوؤں نے خود کو آگ لگالی تھی، جن میں ایک موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

چین کے سیکیورٹی اہل کار دیگر دو بھکشوؤں کو فوری طور پر اسپتال لے گئے لیکن اس کے بعد کچھ نہیں بتایا گیا کہ ان کا کیا ہوا۔

فروری 2009 سے چینی اقتدار کے خلاف خودسوزی کے 69 واقعات ہوچکے ہیں جن میں سے 54 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بدھ کے روز تبت کی جلاوطن حکومت نے چین سے اپیل کی کہ وہ تبت کے مسئلے پر اپنی سوچ تبدیل کرے۔
XS
SM
MD
LG