رسائی کے لنکس

مارچ میں صدر براک اوباما نے روسی صدر دیمتری میدویدیف سے گفتگوکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نومبر کے انتخابات کے بعد اس معاملے پر مزید لچک دکھائیں گے۔

روس نے کہاہے کہ اسے توقع ہے کہ ا مریکہ صدر براک اوباما کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے میزائل شکن نظاموں کی تنصیب کے منصوبے پر جاری تنازع میں مزید لچک پیدا کرے گا۔

جمعرات کو ماسکو کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں روس کے نائب وزیر اعظم دیمتری روگوزن نے کہاہے کہ انہیں امیدہے کہ امریکی صدر نیٹو کے میزائل شکن پروگرام سے متعلق روس کے نکتہ نظر اوراس تنازع کے دیگر پہلوؤں پر بھی غور کریں گے۔

مارچ میں صدر براک اوباما نے، جب کہ انہیں علم نہیں تھا کہ ان کا مائیکروفون کھلا ہواہے، روسی صدر دیمتری میدویدیف سے گفتگوکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نومبر کے انتخابات کے بعد اس معاملے پر مزید لچک دکھائیں گے۔

امریکہ اور روس کے درمیان میزائل شکن نظام پر بات چیت تعطل کا شکار ہے ، امریکہ کا کہناہے کہ اس کا یہ پروگرام ایرانی خطرے سے مقابلے کے لیے ہے۔

ماسکو کا موقف ہے کہ اس میزائل نظام کی تنصیب سے اس کے جوہری ہتھیاروں پر زد پڑے گی۔

وہ امریکہ پر یہ زور دیتا آیا ہے کہ اسے یہ ٹھوس یقین دہانی کرائی جائے کہ مستقبل میں اس منصوبے کی ہیت روس کے خلاف نہیں ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت ، جسے امریکہ اور نیٹو کی حمایت حاصل ہے ، سمندری جنگی جہازوں اور زمین پر میزائل شکن آلات نصب کیے جائیں گے ، جن میں سے کچھ ان ممالک میں بھی ہوں گےجو ماضی میں ورسا معاہدے میں شامل تھیں۔
XS
SM
MD
LG