رسائی کے لنکس

تبت میں چین مخالف مظاہرے

  • واشنگٹن

 ریبکانگ میں تبتی طالب علموں کا چین مخالف مظاہرہ(فائل)

ریبکانگ میں تبتی طالب علموں کا چین مخالف مظاہرہ(فائل)

مظاہرے ایک روز قبل پیش آنے والے خودسوزی کے اس واقعہ کے ردعمل میں ہوئے ہیں جس میں ایک 18 سالہ لڑکے نے تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف بطورِ احتجاج خود کو نذر آتش کردیا تھا۔

مشرقی تبت میں سینکڑوں طالب علموں نے شاہراؤں پر ان مظاہروں کی حمایت میں جلوس نکالے جوچینی اقتدار کے تحت زیادہ آزادیوں کے حصول کے لیے کیے جارہے ہیں، جن میں خود سوزی کے واقعات بھی شامل ہیں۔

مشرقی تبتی علاقے ریبکانگ کے شہر رونگوومیں جمعے کے مظاہرے ایک روز قبل خودسوزی کے اس واقعہ کے ردعمل میں ہوئے جس میں ایک 18 سالہ لڑکے کالسانگ جن پا نے تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو نذر آتش کرلیاتھا۔

خودسوزی کا منظر دیکھنے والوں کا کہناہے کہ نوعمر بھکشو نے خود کو آگ دکھانے سے قبل ایک سفید بینر لہرایا جس پر دلائی لامہ کو ملک میں واپسی کی اجازت دینے کا مطالبہ درج تھا۔

موقع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ سڑک پر شعلوں میں لپٹے ایک زندہ انسان کو دیکھ کر لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا اور ان کے چہروں پر کرب اور بے چینی نمایاں تھی۔

مارچ کے بعد سے ریبکانگ میں پانچ تبتی باشندے خود سوزی کرچکے ہیں، جن میں بدھ کو خودسوزی کرنے والی ایک 23 سالہ خاتون تام ڈنگ بھی شامل ہے جو ایک بچے کی ماں بھی تھی۔

چین کے زیر تسلط تبت میں خودسوزی پر مبنی احتجاج میں ایک ایسے موقع پر تیزی آئی ہے جب بیجنگ میں اقتدار کی منتقلی کے لیے کانگریس کا اہم اجلاس جاری ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کا یہ خصوصی اجلاس ہر دس سال کے بعد ہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG