رسائی کے لنکس

بیشتر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر واشنگٹن نے بر وقت مداخلت نہ کی تو ملک کی نحیف معیشت، جس میں اس وقت معمولی سی بحالی ہو رہی ہےدوبارہ بھاری کساد باززاری کا شکار ہو جائے گی۔

نیویارک ٹائمز

صدر اوباما کی انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد ذرائع ابلاغ میں آج کل FISCAL CLIFFنامی اصطلاح کا بڑا چرچا ہے۔ یہ اصطلاح امریکہ کی موجودہ مالیاتی کیفیت پر مباحثے میں استعما ل کی جاتی ہے۔اور2012 کے اواخر اور2013 کے اوائل میں ٹیکسوں میں بھاری اضافےاور اخراجات میں کمی پر ہونے والے فیصلے کو بیان کرتی ہے۔

مجموعی طور پر ان اقدامات سے وفاقی بجٹ خسارے میں607 ارب ڈالر کی خود بخود بچت ہو جائے گی، لیکن بیشتر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر واشنگٹن نے بر وقت مداخلت نہ کی تو ملک کی نحیف معیشت، جس میں اس وقت معمولی سی بحالی ہو رہی ہےدوبارہ بھاری کساد باززاری کا شکار ہو جائے گی۔

ری پبلکن عمومی طور پر خسارے کو کم کرنے کے لئے اخراجات میں کٹوتی کی حمایت کرتے آئےہیں، اور اُن مین سے بیشتر ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں ۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان اس پر اختلاف ہے کہ بُش دور کے ٹیکسوں کو کس طرح جاری رکھا جائے، فٕسکل کلف کا سب سے اہم مسئلہ ری پبلٕکنز کا یہ اصرار ہے کہ ٹیکسوں کی تمام کٹوتیاں برقرار رکھی جائیں۔ جب کہ اس کے برعکس ڈیموکریٹوں کا یہ موقف ہے، کہ ان تخفیفو ں کا اطلاق ٹیکس دہندگان کے سب سے دولتمند دو فی صد طبقے پر نہیں ہونا چاہئے۔

امریکہ کے معروف نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پال کرگ من نیو یارک ٹائمز میں ایک کالم میں صدر اوباما کو مشورہ دیتے ہیں کہ اُنہیں تقریباً فوری طور سے اس کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں ری پبلکن پارٹی کے مطالبات کو کس حد مان لینا چاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا کوئی مطالبہ نہ مانا جائے ،اور اُنہیں اپنے موقف پر ڈٹا رہنا چاہئے ۔ چاہے اس کی وجہ سے اس کمزور معیشت کو مزیدنقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ اُن کے خیال میں یہ وقت بجٹ کے معاملے میں کوئی ایسی اعلیٰ سودے بازی کا نہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی انتخابی فتح ہار میں بدل جائے۔ کرگ من نے صدر کو یاد دلایا ہے کہ انتخابات میں فتحیابی کے بعد وہ اپنی بات منوانے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔

بوسٹن گلوب

اسی موضوع پراخبار بوسٹن گلوب کہتا ہے کہ کانگریس ارکان کے پاس کوئی سودا کرنے کے لئےوقت نہیں ہے۔ ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وُہاگلے ہفتے کوئی سمجھوتہ کر پائیں گے ، اخبار کہتا ہے، کہ حالیہ انتخابات میں ووٹروں نے جو ملا جلا پیغام دیا ہے، اس میں دونوں پارٹیوں کی حمایت سے طے پانے والے حل کو ترجیح ہے۔ اور دونوں پارٹیوں میں سے کوئی نہیں چاہتی کہ اُسے قوم کو ایک اور مالی گٕرداب میں پھنسانے کی تُہمت دی جائے۔
بالٹی مور سن نے چھ نومبر کے انتخابات میں ووٹروں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے ، کہ حالیہ برسوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ نسلی اقلیتوں کا رُخ بتدریج ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف ہوتا جا رہا ہے ۔ اور اس پارٹی نے کا میابی کے ساتھ عوام میں یہ تاثر پیدا کر لیا ہے ، کہ وہ غریبوں اور مفلسوں کی پارٹی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ ری پبلکن پارٹی والے اپنے آپ کو تسلّی دیتے ہیں کہ انہوں نے صدارتی دوڑ میں شکست کھانے کے باوجود ایوان نمائندگان پر قبضہ برقرار رکھا، انہیں یہ سوچنا پڑے گا کہ لنکن کی اس پارٹی کا مستقبل کیا ہے، اب تک یہ پارٹی بہت حد تک سفید فاموں پر مشتمل رہی ہے۔ لیکن اب سارے امریکہ میں ہسپانوی زبان بولنے والوں اور ایشیائی امریکیوں کا تناسب بڑھتا چلاجارہا ہے۔ اور بُہت سے بڑے شہروں میں افریقی امریکی اب زیادہ تعداد میں ہیں۔

سابق ری پبلکن سپیکر نیوٹ گنگرچ نے انتخابات کے بعد ایل ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ری پبلکن پارٹی کو اس تاثر کو مٹانے کے لئے قدم اُٹھانا پڑےگا۔ کہ اس کلب کی غالب اکثریت سفید فام ہے۔ اور اخبار کہتا ہےکہ اس پارٹی کے لئے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اپنائے ، جو نسلی اور علاقائی اقلیتوں کو محض زبانی جمع خرچ سے نہ ٹرخائے۔

کرسچن سائنس مانیٹر

صدر اوباماکے دوبارہ منتخب ہونے پر یورپ جس ردّ عمل کا مظاہرہ ہوا ہے، کرسچن سائنس مانیٹرکے مطابق اس کا اندازہ فرانس کےے صدر فرنسوا اولاند کے براک اوباما کے نام مبارکباد کے اس پیغام سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ آپ کی اگلی میعاد صدارت کی بدولت دونوں ملکوں کی اقتصادی نمو واپس آئے گی۔ بے روزگاری پر قابو پایا جائے گا۔ اور عالمی بُحرانوں خاص طورپروسط مشرق کے بحران کا حل نکل آئے گا۔
XS
SM
MD
LG