رسائی کے لنکس

کورٹ میرج ، سٹی کورٹ اور اقدام خودکشی


کراچی سٹی کورٹ(فائل)

کراچی سٹی کورٹ(فائل)

رسالہ پولیس کے مطابق سٹی کورٹ کی عمارت سے کودنے والی لڑکی نے، جس کی عمر 19 سال ہے، یہ اقدام اپنے والدین کے خوف کی وجہ سے کیا، جواس شادی کے خلاف تھے۔

گذشتہ دنوں سٹی کورٹ کراچی میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا، جہاں کورٹ میرج کے ارادے سے آنےوالی ایک لڑکی نے سٹی کورٹ کی دو منزلہ عمارت سےکود کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹس کے مطابق لڑکی، جس کا نام افشا نہیں کیا گیا،غلام رسول نامی ایک لڑکے کوپسند کرتی تھی اور اپنا مذہب تبدیل کرکے اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ دونوں سٹی کورٹ میں گئے۔ابھی وہ نکاح رجسٹرار کے دفتر میں ہی موجود تھے کہ لڑکی کے والدین بھی اطلاع پاکر وہاں پہنچ گئے۔

انہیں دیکھ کر لڑکی نے خوف زدہ ہوکرسٹی کورٹ کی دومنزلہ عمارت سے نیچے چھلانگ لگا دی۔

خوش قسمتی سے اس کی جان تو بچ گئی مگر ایک ٹانگ اور جسم کی دوسرے حصوں پر گہری چوٹیں آئیں۔

صدر ٹاؤن کے رسالہ پولیس اسٹیشن کے اہل کاروں نے لڑکی کو طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال پہنچادیا۔

رسالہ پولیس کے مطابق سٹی کورٹ کی عمارت سے کودنے والی لڑکی کی عمر 19 سال ہے۔ اور اس نے یہ اقدام اپنے والدین کے خوف کی وجہ سے کیا، جواس شادی کے خلاف تھے اوروہ اسے شادی کے لیے اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھے۔

پویس کا کہناہے کہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ بالغ و عاقل ہے اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی سے غلام رسول سے شادی کرنا چاہتی ہے۔

بعد ازاں پولیس نے لڑکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں پیش کیا جہاں اس کے والدین بھی موجود تھے۔ اس نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ کہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور غلام رسول سے نکاح کرنے کی نیت سے نکاح رجسٹرار کے پاس گئی تھی مگر اپنے والدین کے اچانک وہاں آجانے سے خوف زدہ ہوکر میں نے سٹی کورٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگادی ، کیونکہ وہ مجھے خدشہ تھا کہ وہ مجھے پکڑ کر تشدد کانشانہ بنائیں گے۔

لڑکی نے عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔

جبکہ لڑکی کی والدہ کا موقف تھا کہ وہ غلام رسول کے بہکاوے میں آگئی ہے۔

بعد ازاں لڑکی کی درخواست پرعدالت نے اسے شیلٹر ہوم بھجوادیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG