رسائی کے لنکس

'جاسوس شہزادی ' نورکے مجسمے کی نقاب کشائی


نورعنایت خان کا مجسمہ

نورعنایت خان کا مجسمہ

.2006 میں شربینا باسو نے نور عنایت خان کی سوانح حیات لکھی جس میں انہوں نے نور کو جاسوس شہزادی کا نام دیا تھا۔

آٹھ نومبر کو لندن کے معروف علاقے'گورڈن براؤن 'پر دوسری جنگ عظیم کی برطانوی جاسوس نور عنایت خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان ایک مجسمے کی تقریب نقاب کشائی شہزادی این کے ہاتھوں ہوئی۔

سالہا سال سے گمنامی کے پردے میں رہنے والی برطانوی جاسوس نور عنایت خان جنھوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں پکڑے جانے پر بد ترین تشدد کو برداشت کیا ،مگر برطانوی حکومت سے وفا داری نبھاتے ہوئے اپنی زبان نہیں کھولی ,ان کی اس بہادری ا ور ناقابل فراموش قربانی کو برطانیہ کی حکومت نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کا ایک مجسمہ نصب کیا ہے۔

برطانوی اخبار' ڈیلی میل ' کے مطابق مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر 300سے زیادہ د لوگ موجود تھے جن میں' ایس او ای ' کے اہل کارروں سمیت 91 سالہ ایرن وارن بھی شامل تھیں ،جو نور کے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ان کا کہنا تھا'نور بہت شرمیلی اور ملنسار تھی، اس کی گراں قدر قربانی ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔'

'شہزادی این' نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ' یہ مجسمہ لوگوں کو نور کی قربانی کی یاد دلائے گا اور، وہ خود سے ان اپنے سوالات کا جواب مانگیں گے کہ نور کون تھی ؟ اور اس کا مجسمہ یہاں کیوں نصب ہے ؟

نور کا مجسمہ برطانوی مجسمہ ساز' کیرن نیومین' نے تخلیق کیا ہے۔جس پر 60.000 پاؤنڈ کی لاگت آئی ہے 2006. میں شربینا باسو نے نور عنایت خان کی سوانح حیات لکھی جس میں انہوں نے نور کو جاسوس شہزادی کا نام دیا تھا ۔وہ اس بات کی قائل ہیں کہ بھارتی ریاست کے حکمران ٹیپو سلطان کی پڑ پوتی ہونے کی وجہ سے شاید انھیں بھی کسی ملک کا دوسرے ملک پر تسلط پسند نہیں تھا۔ ٹیپو سلطان انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جنگ لڑتے ہوئےشہید ہو گئے تھے ۔تاریخ میں انھیں ایک بہادر سلطان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

1942 میں نور نے برطانیہ کی خفیہ سروس ( ایس او ای ) اسپیشل آپریشن ایگزیکٹو میں ایک ریڈیو آپریٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ وہ ان دنوں واحد آپریٹر تھیں ،جنہیں نازیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایک گروپ کے ساتھ پیرس بھیجا گیا ،جو نازیوں کے قبضہ میں تھا ۔ اس مشن میں ان کا خفیہ کوڈ 'میڈالائن' تھا۔

مشن کو پورا کرنے کے لیے وہ روپ بدل بدل کر اپنی جگہیں تبدیل کرتی رہیں، لیکن تین مہینے بعد ہی ان کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا، مگر نور نے آخری وقت تک اہم خفیہ پیغامات برطانوی حکومت کو پہنچاتی رہیں ۔ اس دوران خفیہ سروس کی اعلیٰ قیادت نے انھیں واپسی کی پیشکش بھی کی مگر وہ اپنا مشن کو ادھورا چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں ،کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے جانے سے مزاحمتی گروپ کا رابطہ برطانیہ سے ختم ہو جائیگا ۔.1943 میں انھیں ایک فرانسیسی عورت کی مخبری پر گرفتار کر لیا گیا ۔ دس مہینے کی قید اور بد ترین تشدد کے بعد بھی انھوں نے جرمن فوج کو برطانیہ کی حکومت کے اہم راز نہیں بتائے اور نہ ہی ان کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوئیں۔ دوران قید انھوں نے دو بار فرار کی کوشش بھی کی جس کے بعد انھیں جرمنی منتقل کر دیا گیا جہاں ستمبر1944 میں جرمن فوج نے انھیں قید میں ہی گولی مار دی۔

جس وقت جرمن فوجی ان پر بندوقیں تانے کھڑے تھے، تب بھی ان کی زبان پر آزادی کا نعرہ تھا ۔ان کی اس دلیری اور جرات مندی پر انھیں1945 میں برطانیہ کے اعلیٰ سویلین ایواڈ' جارج کرس 'سے بھی نوازاگیا۔

نور عنایت خان پہلی جنوری 1914 میں روس میں پیدا ہوئیں۔ ان کی ماں امریکن اور باپ ہندوستانی تھے ۔ان کا بچپن فرانس اور جوانی برطانیہ میں گزری۔ بچوں کی ایک اچھی ماہر نفسیات ہونے کے علاوہ انھوں نے موسیقی کی بھی سند لی تھی ۔ انہوں نے بچوں کے لیے کئی کتابیں لکھیں۔وہ فرنچ زبان پر عبور رکھتی تھیں۔ اور صرف 30 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
XS
SM
MD
LG