رسائی کے لنکس

زیر بحث موضوعات میں امکان ہے کہ چھاؤنیوں کے مقام اور تعداد ، اور ملک میں باقی رہ جانے والے امریکی عملے کی قانونی حدود کا حساس سوال شامل ہو ں گے۔

افغان اور امریکی عہدے دار جمعرات کو کابل میں2014 کے بعدکا سیکیورٹی کا وہ معاہدہ طے کرنے کے لئے اجلاس کر رہے ہیں جس میں افغانستان سے بین الاقوامی جنگی فورسز کے انخلا کے بعد ملک کی سیکیورٹی میں امریکہ کے عمل دخل کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔

کابل میں اس بارے میں بہت زیادہ غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے کہ 2014 کے آخر میں بین الاقوامی جنگی فورسز کے ملک سے چلے جانے کے بعد افغانستان میں کیا ہو گا۔ اکثر کو یہ فکر ہے کہ افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا عسکریت پسندوں اور پڑوسی ملکوں، پاکستان اورایران کے ساتھ کیا رویہ ہوگا اور امریکہ کس طرح کا عمل دخل جاری رکھے گا۔

اس سال مئی میں واشنگٹن نے کابل کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ، کابل 2014 کے بعد مشاورت اور تربیت کے لیے امریکی فوجیوں کا ایک گروپ وہاں موجود رہے گا۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان ، جان موسیٰ زئی کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی کے طویل المیعاد تعاون کی تفصیلات پر مرکوز ہو گا۔

موسیٰ زئی کہتے ہیں کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان سیکیورٹی کے معاہدے کا اصل مقصد افغانستان میں 2014 کے بعد امریکی فورسز کی تعداد اور اس کے اصل مشن کے ساتھ ساتھ2014 کے بعد اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کےدائرہ کار کے اندر دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی اور فوجی تعاون کا تعین ہے۔

زیر بحث موضوعات میں امکان ہے کہ چھاؤنیوں کے مقام اور تعداد ، اور ملک میں باقی رہ جانے والے امریکی عملے کی قانونی حدود کا حساس سوال شامل ہو ں گے۔ واشنگٹن زور دے کر کہہ چکا ہے کہ امریکی فوجیوں پر کسی بھی ارتکاب جرم کا مقدمہ امریکہ میں چلایا جانا چاہیے ۔
امریکی فوجیوں کے ماضی کی کارروائیوں، مثلاًاسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کے ہاتھوں 16 عام شہریوں کی ہلاکت اور قران کریم کا نذر آتش کیےجانے کے واقعات نے افغانوں کو برہم کر دیا تھا۔

صدر حامد کرزئی پر اس بارے میں دباؤ ہے کہ وہ زور دیں کہ باقی رہ جانے والے امریکی فوجی عملے کے کسی بھی رکن پر مقامی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے ۔

عراق میں خاص طور پر امریکی فوجیوں کے لیے استثنیٰ کے ایسا ہی کوئی معاہدہ طے نہ پا سکنے کی وجہ سے وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی ختم ہو گئی تھی۔

امریکہ نے افغانستان کو ایک بڑا نان نیٹو اتحادی قرار دے دیا ہے جو ایک ایسی حقیقت ہے جس کے پیش نظر سابق فوجی اور انٹیلی جنس آفیسر ، جاوید کوہستانی یہ توقع رکھتے ہیں کہ سیکیورٹی کا معاہدہ یہ یقینی بنائے گا کہ امریکہ افغانستان کا کسی بیرونی مداخلت سےدفاع کرے گا خاص طور پر اس کے پڑوسیوں پاکستان اور ایران سے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم پر ہماری سرحدوں کے پار سے حملہ ہوتا ہے تو امریکہ کو آکر اس علاقے کا دفاع کرنا چاہیے ۔جب یہاں دوسری انٹیلی جنس سروسز فعال ہیں تو انہیں افغانوں کو انٹیلی جنس کی بھر پور مدد فراہم کرنی چاہیے ۔ اور اگر ہماری حکومت میں دوسرے ملکوں کے جاسوس موجود ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ انہیں ہٹائیں اور افغان انٹیلی جیس سروس این ڈی ایس کی بھی مدد کریں اور پڑوسی انٹیلی جنس سروسز کے خلاف مزید اقدامات کریں ۔

پاکستان پر الزام ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر سے عسکریت پسند گروپس کے خاتمے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔ مثلاًافغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک، جسے امریکہ نے دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے اور جو امریکی اور افغان فورسز پر بڑے پیمانے کے حملے کر چکا ہے ۔

اس ہفتے حقانی نیٹ ورک کے ایک لیڈر نے کہا تھا کہ اگر طالبان پہل کریں تو اس کا گروپ امن کے کسی تصفیے کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ لیکن طالبان کے ساتھ مصالحتی مذاکرات ،جن کی بیشتر جنوبی اور مشرقی افغانستان میں ابھی تک مزاحمت ہورہی ہے، اس سال کے شروع میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

منگل کے روز طالبان نے کابل میں راکٹ کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ایک ایسے علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا جو شہر کے ایک انٹر نیشنل ائیر پورٹ اور ایک پرائیویٹ ٹی وی اسٹیشن کے قریب واقع تھا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہو گئے تھے ۔

پاکستان میں افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل پاکستان کے سینیئر فوجی اور سرکاری عہدےداروں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ طالبان کے ساتھ گفت و شنید پر تعطل کو ختم کیا جا سکے ۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کئی طالبان قیدی رہا کرنے پر رضامند ہو چکا ہے اور یہ وہ اقدام ہے جسے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات توقع ہے کہ کئی ماہ تک جاری رہیں گے۔
XS
SM
MD
LG