رسائی کے لنکس

اسرائیل کی فوج نے غزہ کے ارد گرد تمام اہم سڑکوں کو بند کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امکانی طورپر کسی بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان ہفتے کے روز ایک دوسرے کے خلاف خونریز حملے جاری رہے جب کہ اسرائیلی فورسز کسی ممکنہ زمینی حملےکی تیاری کے لئے غزہ کی سرحد کے قریب اکٹھی ہو چکی ہیں۔

اسرائیل نے ہفتے کے روز غزہ کی پٹی پر، جس پر حماس کی حکومت قائم ہے، دو سو سے زیادہ فضائی حملے کیے۔

ان حملوں کے نتیجے میں حماس کی کابینہ کا ہیڈ کوارٹرز تباہ ہوگیا، جب کہ فلسطینیوں نے جنوبی اسرائیل پر اپنے راکٹ حملے جاری رکھے ۔

اسرائیل کی فوج نے غزہ کے ارد گرد تمام اہم سڑکوں کو بند کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امکانی طورپر کسی بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے۔

اسرائیل کی کابینہ نے 75000 تک ریزرو فوجیوں کی نقل و حرکت کا اختیار دے دیا ہے ۔ جب کہ ٹینک اور دوسری بکتر بند گاڑیاں بھی سرحد کے ساتھ ساتھ متعین کر دی گئی ہیں۔

حماس نے چند روز قبل جب سےتنازعہ شروع ہوا ہے سینکڑوں راکٹ فائر کیے ہیں۔ اسرائیلی عہدے داروں نے کہا ہے کہ ان کے نئے میزائل ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم نے غزہ کے علاقے سے داغے جانے والے بہت سے راکٹوں کا راستہ روک کر انہیں راستے میں ہی تباہ کردیں۔

حماس نے جمعےکے روز یروشلم کے باہر ایک کھلے میدان میں گرنے والے راکٹ کے حملے کی ذ مہ داری قبول کرنے کا دعوی ٰ کیاہے۔

حماس نے اسرائیل کے کمرشل مرکز تل ابیب پر بھی راکٹ فائر کیے ہیں۔

فائر بندی پرابھی تک کوئی سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

فلسطینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس ہفتے کے شروع میں جب سے اسرائیلیوں نے اپنے فضائی حملے شروع کیے ہیں، لگ بھگ چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔حماس کے راکٹوں سے تین اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں ۔
XS
SM
MD
LG