رسائی کے لنکس

’نیو یارک ٹائمز ‘ کہتا ہے کہ اگر افغانستان کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک میں بدلنے کا کوئی موقع تھا تو وُہ صدر جارج بُش نے کھو دیا، جب عراق میں ایک بے مقصد جنگ کا آغاز کیا گیا

افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پر ’نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادرائے میں کہتا ہے کہ 17 ماہ قبل صدر اوبامہ نے کہا تھا کہ افغانستان میں لڑائی میں شدّت پیدا کرنے کے لئے جو اضافی فوجی وہاں بھیجے گئے تھے وُہ ستمبر تک واپس وطن پہنچ جائیں گے، اور انہوں نے اپنا یہ وعدہ پُورا کر کے دکھا دیا۔

باقی کے 66 ہزار امریکی فوجیوں کےبارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی تعداد بتدریج کم کی جائے گی ۔ حتیٰ کہ سنہ 2114 کے اواخر تک وُہ بھی واپس امریکہ پہنچ جائیں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ بتدریج کم کرنے کا مطلب یہ ہونا چاہئیےکہ فوجوں کی سلامتی مد ِنظر رکھتے ہوئے یہ واپسی بر وقت شروع ہو اور یہ واپسی اب شروع ہو جانی چاہئیے اور اس میں ایک سال سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئیے۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے حملوں کے بعد اُس نے افغانستان میں جنگ کی پُر زور حمائت کی تھی۔ لیکن اب ، جب دس سال سے زیادہ عرصہ گُزر چکا ہے اور اس جنگ پر 500 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چُکے ہیں، وقت آ گیا ہے جب محفُوظ اور منظّم واپسی کا عمل شروع ہو جانا چا ہئیے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر افغانستان کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک میں بدلنے کا کوئی موقع تھا تو وُہ صدر جارج بُش نے کھو دیا ، جب عراق میں ایک بے مقصد جنگ کا آغاز کیا گیا۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ صدر اوبامہ کی افغانستان سے بتدریج فوجیں واپس لانے سے کیا مُراد ہے ۔افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل ایلن کو نومبر انتخابات کے بعد فوجوں کی واپسی پر تجاویز پیش کرنا تھیں۔ لیکن وہائٹ ہاؤس نے نہ تو جنرل ایلن سے رپورٹ طلب کی ہے اور نا ہی محکمہٴ دفاع نے سنہ 2013 اور 2014 ءکے لئے فوجوں کی حد مقرر کی ہے۔

اخبار کے رپورٹر مایئکل گارڈن کے مطابق فوجی کمانڈروں کو اصرار ہے کہ اگلے سال کے اواخر تک باقیماندہ تمام چھیاسٹھ ہزار فوجیوں کو لڑائی کے سیزن کے دوران وہیں رہنے دیا جائے اور اس کے ایک سال بعد انہیں وہاں سے ہٹایا جائے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ فوجوں کی بتدریج واپسی سے اس بات کی ضمانت نہیں ملتی کہ طالبان علاقے پر دوبارہ قابض نہیں ہونگےیا یہ کہ افغان سیاست میں استحکا م آ جائے گا۔افغان حکومت کی کرپشن سے نجات پانے کا بھی کم سے کم امکان ہے البتہ یہ یقینی ہے کہ زیادہ تعداد میں امریکی فوجوں کی موجودگی سے ان میں زیادہ لوگ ہلاک اور زخمی ہونگے۔
وہائٹ ہاؤس اس وقت اس پر غور کر رہا ہے کہ کچھ فوج افغانستان میں پیچھے چھوڑدی جائے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ دس ہزار امریکی اور کئی ہزار نیٹو فوجی وہاں موجود رہیں اور وہائٹ ہاؤس کے عہدہ داروں کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوبامہ اس پر غور کریں گے کیونکہ اس کا اثر اُن مذاکرات پر ہوگاجو مستقبل کے سیکیورٹی کے تعلقات پر کابل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

لیکن، اخبار کا خیال ہے کہ صدر اوبامہ امریکی عوام کو اس قسم کی فوج افغانستان میں برقرار رکھنے کی منطق کا قائل نہیں کر سکےہیں۔ بہر حال، اخبار کو اصرار ہے کہ کابل حکومت کے ساتھ ان مذاکرات کو طُول نہیں دینا چاہئیے۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ اس جنگ میں دو ہزار سے زیادہ امریکی جانیں ضائع ہوئی ہیں، اور مزید ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، اور فوجوں کی واپسی مزید ایک سال تک التوا میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔
’سیک رامینٹو بی‘ کے مطابق، مصر کی ایک عدالت نے بدھ کو سات مصری قبطی عیسائیوں اور فلوریڈا کے پادری کو موت کی سزا سنائی ہے۔ اُن پر اُس اسلام دشمن فلم سے متعلقہ الزامات عائد کئے گئے تھےجس کی وجہ سے دُنیائے اسلام کےبیشتر علاقوں میں فساد ہوئے تھے۔ اخبار کہتاہے کہ اس مقدّمے کی نوعیت کم و بیش علامتی تھی، کیونکہ بیشتر ملزمان مصر سے باہر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں اس لئے اُن پراس سزا کے اطلاق کی کوئے امکان نہیں ہے۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ عدالت نے ا ن لوگوں کو قومی یگانگت کو نُقصان پہنچانے ، اسلام کی توہین کرنے اور گُمراہ کُن اطلاعات کی ترویج کرنے کا مجرم قرار دیا ہے ، جن تمام کی سزا موت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ مصر میں ایسے ملزموں کو اُن کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنانا عام ہے جس پر نظر ثانی کرنے کا اختیار ملک کے سب سے بڑے مذہبی حاکم کو ہے، جسے یا تو سزا کی منظوری دینی ہوتی ہے یا پھر اسے مسترد کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا حتمی فیصلہ 27 جنوری کو سُنایا جائے گا۔

’اورے گونین‘ اخبار کے مطابق امریکہ کے 372 بڑے بڑے شہروں میں اکتوبر کے مہینے میں بے روزگاری نصف سے زیادہ کم ہو گئی ۔ جو اس بات کی علامت مانی جاتی ہے کہ روزگار کی صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ اِسی دوران، قومی سطح پر مجموعی طور پر روزگار کے ایک لاکھ اکہتر ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے۔
XS
SM
MD
LG