رسائی کے لنکس

فوجی انخلا کے بعد افغانستان میں ٹھوس امریکی موجودگی پر غور

  • واشنگٹن

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا(فائل)

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا(فائل)

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کہتے ہیں کہ القاعدہ اور دیگرتنظیموں کی جانب سے دہشت گردی کے خطرے اور افغان فورسز کے لیے جاری تربیتی پروگراموں کے پیش نظر امریکہ کو 2014 کے بعد بھی افغانستان میں معقول تعداد میں اپنے فوجی رکھنے پڑیں گے۔

دفاع سے متعلق امریکی عہدے داروں نے کہاہے کہ انہوں نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ 2014میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امریکہ افغانستان میں اپنے کتنے فوجی رکھے گا، لیکن وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہاہے کہ وہاں ٹھوس فوجی موجودگی برقرار رہنی چاہیے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کہتے ہیں کہ القاعدہ اور دیگرتنظیموں کی جانب سے دہشت گردی کے خطرے اور افغان فورسز کے لیے جاری تربیتی پروگراموں کے پیش نظر امریکہ کو 2014 کے بعد بھی افغانستان میں معقول تعداد میں اپنے فوجی رکھنے پڑیں گے۔

پنیٹا نے یہ بیان، اسرائیلی وزیر دفاع ایہوک بارک کے ساتھ پنٹاگان میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے افغانستان کے مشن کا بنیادی مقصد ایک ایسے افغانستان کی تعمیر ہے جو محفوظ ہو اور اپنی سر زمین پر خود حکمرانی کر سکتا ہو اور اس چیز کی یقین دہانی ہے کہ القاعدہ ، امریکہ یا کسی اور ملک پر حملے کرنے کے لیے افغانستان میں دوبارہ اپنے محفوظ ٹھکانے قائم نہ کر سکے۔ ہمارا مقصد وہاں اپنی دیر پا موجودگی برقرار رکھنا ہے۔

پنیٹا نے کہا کہ اتحادی فورسز القاعدہ کی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوئی ہیں ، لیکن ان کا کہناتھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ القاعدہ افغانستان میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور اپنی اہلیت بڑھانے کی راہیں تلاش کررہی ہے۔

امریکی دفاعی عہدے داروں نے کہاہے کہ وہ اس بارے میں کام کررہے ہیں کہ 2014 کے بعد افغانستان میں کتنے امریکی فوجی رکھنے کی ضرورت ہوگی اور توقع ہے کہ یہ فیصلہ آئندہ ہفتوں میں ہوجائے گا۔
XS
SM
MD
LG