رسائی کے لنکس

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی ، اے این پی،جماعت اسلامی ،مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ فنکشنل اور جے یو آئی سمیت چودہ جماعتوں سے ملاقات کی اور ہدایت کی کہ حلقہ بندیوں پر سات روز کے اندر اپنی تجاویز الیکشن کمیشن کو دی جائیں۔

کراچی میں نئی حلقہ بندیایوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر شہر کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات کے بعد ملک میں نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو سات روز کے اندر حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔

پاکستان میں آخری حلقہ بندیاں دو ہزار آٹھ میں ہوئی تھیں۔کراچی میں قومی اسمبلی کی20 جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے 42 نشسیں مختص کی گئیں۔2002 2008 کے انتخابات 2001کی حلقہ بندیوں پر ہوئے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے پاس قومی اسمبلی کی 20 اور صوبائی اسمبلی کی 34 نشستیں ہیں۔

بدھ کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں کراچی بد امنی کیس کی جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو ہدایت کی تھی کہ حکومت سندھ اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے تین دن میں ووٹر لسٹوں کا ابتدائی خاکہ تیار کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

اس موقع پر بینچ کے رکن انور ظہیر جمالی نے ریمارکس میں کہا کہ ہر دس سال بعد مرد م شماری کرانا آئینی ذمہ داری ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں لسانی تقسیم ختم ہو اور مخصوص علاقوں میں کسی ایک گروپ کی بالادستی نہ ہو۔

ایم کیو ایم کا ان ریمارکس پر بھی سخت رد عمل سامنے آیا۔ جمعرات کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور جمعہ کو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے ریمارکس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر آئینی، متعصبانہ اورکراچی کے عوام کے مینڈٹ کی کھلی توہین قرار دیا۔صدر اور چیف جسٹس سے بھی جج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے مطابق ملک بھرمیں مردم شماری کرائے بغیر صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے کاحکم سراسر غیرجمہوری ہے جس سے کراچی کے عوام میں احساس محرومی جنم لے گا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی ، اے این پی،جماعت اسلامی ،مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ فنکشنل اور جے یو آئی سمیت چودہ جماعتوں سے ملاقات کی اور ہدایت کی کہ حلقہ بندیوں پر سات روز کے اندر اپنی تجاویز الیکشن کمیشن کو دی جائیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کراچی میں میڈیا کو بتایا کہ چودہ جماعتوں میں سے ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جس نے ملاقات میں ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ایم کیو ایم کے وفد کا کہنا تھا کہ پہلے سپریم کورٹ کاوہ حکم دکھایا جائے جس میں حد بندیوں سے متعلق بات کی گئی ہے جس کے بعد وہ اپنی تجاویز دیں گے جبکہ تاحال انہیں حکم کی کاپی موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم کا یہ نکتہ وزن رکھتا ہے تاہم ان کیلئے سپریم کورٹ کا زبانی حکم بھی تحریری حکم سے کم نہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے امید ظاہر کی کہ ایم کیو ایم سے جلد معاملات طے پائے جائیں گے اور وہ اپنی تجاویز ضرور دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ان کی سندھ حکومت کے وفد سے ملاقات ہوئی تھی اور صوبائی حکومت نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ جماعتیں ان کے شارٹ آرڈر پر ملاقات کیلئے آئیں جو خوش آئند ہے اور اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے نئی ووٹر فہرستوں سے متعلق حکم پر عملدرآمد میں دو ماہ کا وقت درکار ہے۔ 16 مارچ 2013کو حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جس کے بعد الیکشن کمشن کے پاس 90 دن ہوں گے۔ لہذا یہ کہنا ہے کہ اس عمل سے الیکشن التوا کا شکار ہونگے درست نہیں۔
XS
SM
MD
LG