رسائی کے لنکس

ڈھاکہ میں ہڑتال، ہنگامے اور گرفتاریاں

  • واشنگٹن

ڈھاکہ میں پولیس مظاہرے میں شریک ایک شخص کو پکڑ کر لے جارہی ہے

ڈھاکہ میں پولیس مظاہرے میں شریک ایک شخص کو پکڑ کر لے جارہی ہے

ہڑتال کی اپیل ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند پارٹی نے اپنے راہنماؤں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر کی تھی۔

بنگلہ دیش میں حکام نے کہاہے کہ انہوں نے متعدد ایسے مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جو پولیس پر حملے اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

ہڑتال کی اپیل ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند پارٹی نے اپنے راہنماؤں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر کی تھی۔

مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ سے بچنے کے لیے حفاظتی ڈھالوں اور ہیلمٹ سے مسلح پولیس کے دستوں نے منگل کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکوں پر گشت کیا اور اس دوران کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

ہڑتال کی وجہ سے کئی تعلیمی ا دارے اور کاروباری مراکز بند رہے۔

ڈھاکہ پولیس کے ایک عہدے دار اسدالزماں نے میڈیا کو بتایا کہ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے بہت سے پولیس اہل کار تعینات کیے گئے ہیں جن میں سویلین لباس میں ملبوس اہل کار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرین اچانک گلیوں سے نکل کر ٹریفک کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں روکنے اور لوگوں کے تحفظ کی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔

عہدےد اروں کا کہناہے کہ بنگلہ دیش کے شمال میں پیر کی رات پویس کےساتھ جھڑپوں میں جماعت اسلامی کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا۔

جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف 1971کے دوران آزادی کی تحریک سے منسلک جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت روک دی جائے۔

بنگلہ دیشی حکام کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے راہنماؤں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر تحریک آزادی کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہلاک اور دیگر جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

جماعت اسلامی ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔

جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی پارٹی، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا، جس کاشمار حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر کیا جاتاہے، کہناہے کہ حکمران عوامی لیگ نےجنگی جرائم کا خصوصی ٹربیونل اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے قائم کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG