رسائی کے لنکس

ایسوسی ایشن آف سٹرٹیفائیڈ فراڈ ایکزامرز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں فراڈ کی شرح کا اوسط سات فی صد ہے جب کہ ترکی میں یہ شرح 15 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

ترکی کو ماضی میں کرپشن کے واقعات کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہاہے لیکن موجودہ حکومت کا کہناہے کہ وہ رشوت ستانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم پر قائم ہے۔

گذشتہ عشرے میں اے کے پارٹی کی حکومت میں ترکی نے بے مثال ترقی کی ، جس سے اس کی معیشت کاسائز بڑھ کر تین گنا ہوگیا۔ لیکن دوسری جانب ملک رشوت ستانی اور بدعنوانی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

2011 میں ایک بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کمپنی’ ارنسٹ اینڈ ینگ‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ 77 فی صد ترک باشندوں کو رشوت ستانی اور بدعنوانی سے متعلق انٹرویوکیا گیا۔

ایسوسی ایشن آف سٹرٹیفائیڈ فراڈ ایکزامرز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں فراڈ کی شرح کا اوسط سات فی صد ہے جب کہ ترکی میں یہ شرح 15 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

اے کے پارٹی کو اس پر فخر ہے کہ اس کی سوچ اور پالیساں کاروبار دوست ہیں۔ اور اس کا کہناہے کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا عزم رکھتی ہے۔

اس سال کے شروع میں اقوام متحدہ نے ترکی کو انسداد رشوت ستانی کے شعبے میں ایوارڈ دیاتھا۔ پولیس نے مقامی بلدیاتی اداروں پر انسداد رشوت ستانی کے سلسلے کئی چھاپے مارے تھے۔ لیکن ناقدین کا کہناہے کہ یہ چھاپے صرف ان بلدیاتی اداروں پر مارے گئے ، جن پر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کا کنٹرول تھا۔

پچھلی حکومت نے2001میں عالمی بینک کے تعاون سےکئی اصلاحات متعارف کرائی تھیں، جن کے تحت بدعنوانی اور رشوت ستانی کی چھان بین کے لیے کئی آزاد ادارے قائم کیے گئے تھے۔ لیکن 2010میں حکومت نے ان آزاد اداروں کو ریاست کے کنٹرول میں دے دیا۔

اے کے پارٹی کرپشن سے متعلق الزامات کا جواب گذشتہ اپنی حکومت کی گذشتہ ایک عشرے کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہے کہ اس عرصے میں ترکی نے بے مثال ترقی کی ہے۔
XS
SM
MD
LG