رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: امیروں پر ٹیکس بڑھانے کا تنازعہ


ٹیکسوں کے مسئلے پر صدر اوباما کا وہائٹ ہاؤس میں ایک وفد سے خطاب(فائل)

ٹیکسوں کے مسئلے پر صدر اوباما کا وہائٹ ہاؤس میں ایک وفد سے خطاب(فائل)

صدر اوباما نے بھی تجارتی طبقے کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ری پبلیکن ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ کی آمدنی پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کرنا چھوڑ دیں تو ان کے ساتھ ایک ہفتے کے اندر سودا طے ہوسکتا ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز

امریکہ کو جن مالی مشکلات کا سامناہے ، ان کو سلجھانے کی کوشش میں ملک کے ڈیموکریٹک صدر اور ری پبلیکن غلبے والے ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بینر کے درمیان گفتگو وشنید جاری ہے۔ لاس اینجلس ٹائمز کے کالم نگار جان ہیلی قلم طراز ہیں کہ ایک بات جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، وہ صدر اوباما کا یہ ا صرار ہے کہ ملک کے امیرترین لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جائے۔

دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ان میں کچھ لچک پیدا ہوگئی تھی لیکن اب ان کا اصرار ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوگا، اس میں ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ آمدنی پر ٹیکس لگانے کی شق ضرور ہونی چاہیے۔

کالم نگار کا سوال ہے کہ ایسا کرنا کیوں ضروری ہوگیا ہے ، جب کہ دوسرے ذرائع سے اتنے ہی محاصل جمع کیے جاسکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ری پبلیکن ارکان کو اپنے اس عہد سے مکرجانے پر مجبور کیا کہ وہ ٹیکس کبھی نہیں بڑھائیں گے۔

کالم نگار کا خیال ہے کہ صدر اوباما کے اصرار کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہیں شاید یقین نہیں کہ دوسرے ذرائع بھی اتنی ہی آمدنی پیدا کرسکتے ہیں جتنے کہ نئے ٹیکس۔

بوسٹن گلوب

بوسٹن گلوب اخبار میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک مراسلے کے مطابق وہائٹ ہاؤس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ صدر اوباما ملک کو نام نہاد فسکل کلف یا مالیاتی چوٹی سے گرنے کی اجازت دینے پر رضامند ہیں اورنہ ہی یہ ٹیکسوں کے معاملے میں ری پبلیکن قیادت سے مراعات حاصل کرنے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو وہائٹ ہاؤس اس کی ساری ذمہ داری ری پبلیکن پارٹی پر ڈال سکتا ہے۔ کیونکہ اس کو دولت مندوں کو ٹیکسوں میں دی گئی رعایات کو بچانے پر اصرار ہے۔ اور جیسا کہ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ اب یہ ری پبلیکن پر منحصر ہے کہ آیا وہ دولت مندوں پر ٹیکس کی زیادہ شرح لگانے پر راضی ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اس کے بعد بہت سارے امور پر بات ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ ا س کے لیے تیار نہیں تو ا س کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ہمیں اس فسکل کلف سے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

وزیر خزانہ ٹموتھی کائٹنر سے جب ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ اگر دولت مندوں پر ٹیکس بڑھانے پر سمجھوتہ نہ ہوسکا تو اس صورت میں انتظامیہ فسکل کلف سے گرنے کے لیے تیار ہوگی۔ تو انہوں نے جواب میں کہاتھا ۔ ’بالکل‘

مسٹر گائٹنر کا کہناتھا کہ ایسے کسی معاہدے کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے جس میں دو فی صد امیرترین امریکیوں کے ٹیکسوں میں اضافہ شامل نہ ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ انتظامیہ کو ایسا کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا جس میں قرض لینے کی حد نہ بڑھائی گئی ہو۔ انتظامیہ امریکی معیشت کو باربار کی دھمکیوں کا یرغمال نہیں بننے دے گی۔

صدر اوباما نے بھی تجارتی طبقے کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ری پبلیکن ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ کی آمدنی پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کرنا چھوڑ دیں تو ان کے ساتھ ایک ہفتے کے اندر سودا طے ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ

امریکہ کی ریاست ورجینیا کے جنوب وسطی علاقے میں اربوں ڈالر مالیت کے یورینیم کے ذخائر دفن ہیں جو بقول واشنگٹن پوسٹ ملک کے جوہری بجلی گھروں کے لیے تابکار ایندھن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن انہیں اس وجہ سے نہیں نکالا جاسکا ہے کیونکہ یورینیم کی کان کنی سے علاقے کے آبی ذخائر کے آلودہ ہوجانے کا خطرہ موجود ہے۔ خصوصاً اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس علاقے میں زبردست طوفان آتے رہتے ہیں۔
لیکن اخبار کہتا ہے کہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ایک جائزے کے مطابق کان کنی کے معیاروں کو بہتر بنانے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور اگر کہیں آلودگی ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ معیار برقرار نہ رکھنا ہوسکتی ہے۔

اخبار کا مشورہ ہے کہ یورینیم نکالنے پر اس وقت جو پابندی لگی ہوئی ہے، اسے ہٹانے سے پہلے کان کنی کی تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
XS
SM
MD
LG