رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: گارمنٹ فیکٹری کے پاس حفاظی لائسنس نہیں تھا

  • واشنگٹن

آتش زدگی کا نشانہ بننے والی تزرین فیشن فیکٹری(فائل)

آتش زدگی کا نشانہ بننے والی تزرین فیشن فیکٹری(فائل)

عہدے داروں کا کہناہے کہ 2006 کےبعد سے بنگلہ دیش میں گارمنٹ فیکٹریوں کے اندر ہونے والی آتش زدگی کے واقعات میں 500 سے زیادہ افراد ہلا ک ہوچکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے آگ بجھانے کے محکمے کے عہدے داروں نے کہاہے کہ ڈھاکہ میں قائم غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ملبوسات تیار کرنے والی جس فیکٹری میں پچھلے مہینے آگ بھڑک اٹھنے سے کم ازکم 110 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس کے پاس آتش زدگی سے بچاؤ کا مستند لائسنس موجود نہیں تھا۔

عہدے داروں کا کہناہے کہ لائسنس جون کے مہینے میں ختم ہوگیا تھا ، جس کے بعد اس کی تجدید نہیں کرائی گئی تھی۔

بنگلہ دیشی حکام نے ریڈی میڈ گارمنٹس فیکٹری کے تین عہدے داروں کو آتش زدگی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا ۔

فائرفائٹرڈپارٹمنٹ کے عہدے داروں نے بتایا کہ تزرین فیشن فیکٹری کے اندر ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کے راستے نہیں تھے، جس کی وجہ سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شعلوں کی لپیٹ میں آکر ہلاک ہوگئی۔

عہدے داروں کا کہناہے کہ 2006 کےبعد سے بنگلہ دیش میں گارمنٹ فیکٹریوں کے اندر ہونے والی آتش زدگی کے واقعات میں 500 سے زیادہ افراد ہلا ک ہوچکے ہیں۔

کارکنوں کے حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ فیکٹریوں میں تحفظ سے متعلق ناکافی اور غیر معیاری انتظامات کے سبب مالکان کو سزا دی گئی ہو۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے کی فیکٹریاں اپنی مصنوعات زیادہ تر یورپ اور امریکی منڈیوں میں برآمد کرتی ہیں اور ان کے سب سے بڑے خریداروں میں وال مارٹ اور ڈزنی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش ملبوسات کی برآمد سے سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے جو اس کی کل برآمدات کے تقریباً 80 فی صد کے مساوی ہے۔
XS
SM
MD
LG