رسائی کے لنکس

دسمبر کے پہلے ہفتے میں 2 دسمبر کو سب سے زیادہ قتل کئے گئے، جس میں گلشن اقبال میں قائم ایک مدرسے کے استاد سمیت9 افراد کو قتل کیا گیا۔

پاکستان کے صنعتی مرکز کراچی میں بد امنی کاسلسلہ جاری ہے، اور مختلف واقعات میں لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں۔کراچی میں جمعے کے روز بھی 8 افراد جان کی بازی ہارگئے، جبکہ قانون نافذکرنےوالے اداروں نے ایک کالعدم تنظیم کے دو کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

کراچی کے گارڈن کے علاقےمیں رکشے سے تین افراد کی لاشیں ملیں، پولیس ذرائع کے مطابق ایک روز پہلے نامعلوم ملزمان نے اسلحہ کے زور پر رکشہ چھینا تھا، پولیس کے مطابق تینوں نوجوانوں کو تشدد کرکے قتل کیاگیا ہے۔

جبکہ اورنگی ٹاون میں حیدر چوک کے علاقے میں سیاسی جماعت سے تعلق رکھنےوالے نوجوان کو قتل کردیاگیا۔دوسری جانب منگھوپیر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا،لانڈھی اور گلشن معمار کے علاقے سے بھی دو افراد کو قتل کردیاگیا۔

لانڈھی ڈیفنس اور کورنگی میں فائرنگ سے 4 افراد زخمی ہوئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں سے رینجرز نے ٹارگٹ آپریشن کرکے متعدد دہشتگردوں کو بھاری اسلحے سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

نجی چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے سات دنوں میں ٹارگٹ کلنگ اور دو دستی بم حملوں میں 35 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔

یکم دسمبر کو شہر کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوئے۔رینجرز اہلکاروں کی جانب سے منگھوپیر کے علاقے میں بڑا آپریشن کرکے کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا۔

دسمبر کے پہلے ہفتے کے سات دنوں میں 2 دسمبر کو سب سے زیادہ قتل کئے گئے، جس میں گلشن اقبال میں قائم ایک مدرسے کے استاد سمیت9 افراد کو قتل کیا گیا۔

3 دسمبر کو 5 افراد قتل ہوئے،جبکہ 4 دسمبر کو مسجد کے پیش امام سمیت دو افراد قتل کئے گئے۔ 5، دسمبر کو 4 افراد کو نشانہ بنایا گیا جبکہ گزشتہ روز 6 دسمبر کو بھی بوری بند لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری رہا مختلف علاقوں میں 5 افراد قتل کئے گئے۔

گزشتہ مہینوں کی بات کی جائے تو رواں سال کے 11 مہینوں میں 2000 افراد قتل ہوچکے ہیں۔ جبکہ ماہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے صرف 3 ماہ میں میں 700 افراد کو قتل کیا گیا۔

شہر کراچی میں رینجرز اور مختلف سیکورٹی اداروں کی جانب سے شہر کے متعدد علاقوں میں کئی ٹارگٹڈ آپریشن کرکے درجنوں دہشتگردوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،مگر کراچی میں جاری بد امنی اورقتل عام پر اب تک قابو نہیں پایا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG