رسائی کے لنکس

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے شہری 5 شہروں کا ویزا حاصل کرسکیں گے جبکہ تاجروں کو ایک سال کے لئے ویزا دیا جائے گا۔

پاکستانی اور بھارتی عوام کے درمیان قربتیں آسان ہوگئیں۔ جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان نئے ویزا معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے اور اب دونوں ممالک کے شہری نہ صرف ایک دوسرے کے ملکوں میں پہلے سے زیادہ مدت تک قیام کرسکیں گے بلکہ اب شہریوں کو تین کے بجائے پانچ شہروں میں گھومنے اور رہنے کا موقع ملے گا۔

نئے ویزا معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز جمعہ کو پاکستانی وزیرداخلہ رحمن ملک کے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں ہوا۔ بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے اور ان کے پاکستانی ہم منصب رحمن ملک نے بٹن دباکر ویزہ معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز کیا۔

معاہدے کے تحت اب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی پیشگی ویزا لینے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ بزرگ شہریوں کو ایئرپورٹ سے ہی ویزا مل سکے گا۔

افتتاحی تقریب میں بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے ویزا معاہدے سے عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ حاصل ہوگاجبکہ رحمن ملک نے کہا کہ یہ نہ صرف تاریخی موقع ہے بلکہ تعلقات کی بحالی کی جانب ایک قدم ہے۔

پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان نئے ویزا معاہدے پر باقاعدہ دستخط بھی آج ہی ہوئے۔معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے شہری 5 شہروں کا ویزا حاصل کرسکیں گے جبکہ تاجروں کو ایک سال کے لئے ویزا دیا جائے گا۔ معاہدے کی رو سے 12 سال تک کے بچے، بزرگ حضرات اور بڑے سرمایہ دار پولیس رپورٹ سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔

رحمن ملک جمعہ کی شام اسلام آباد سے نئی دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔ نئی دہلی پہنچے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان ممبئی حملہ کیس میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے تاہم ہمیں اس سلسلے میں پاکستان کے قانون کی پابندی کرنی ہے۔

رحمن ملک نے کہا کہ ممبئی حملہ کیس میں جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک میں امن قائم ہو اور باہمی دوستی کو فروغ دیا جاسکے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے کیونکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا ہے۔رحمن ملک نے کہا کہ ان کا دورہ بھارت کا مقصد پاک بھارت ویزا معاہدے پر بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔

معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے عوام بغیر کسی مسئلے کے ایک دوسرے کے ممالک میں سفر کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس دورے میں دونوں ملکوں کے عوام کو دیگر سہولتوں کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوگی۔
XS
SM
MD
LG