رسائی کے لنکس

پاکستان کا ٹیکس جمع کرنے کا ریکارڈ ساری دنیا میں بدترین ہے اور پچھلے پندرہ سال کے دوران کسی کے خلاف ذاتی انکم ٹیکس کی چوری کرنے کا ایک بھی مقدّمہ نہیں چلایا گیا ہے۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں پاکستان کے ناقص انکم ٹیکس نظام پر بورڈ آف ریوینیو کے نئے سربراہ علی ارشد حکیم کے تقرّر پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جن کے ذمّےاس ٹوٹے ہوئے نظام کی اصلاح کرنا ہے۔

اخبار کے نمائندے، الیکس راڈری گیز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس اس مُشکل مسئلے کا ایک علاج ہے اور یہ کہ وُہ ارکان پارلیمنٹ کو، جن کی اکثریت خود ٹیکس ادا نہیں کرتی، ایک تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ وُہ یہ کہ وُہ عام معافی کا ایک قانون منظور کریں جس کا اطلاق اُن لاکھوں پاکستانیوں پر ہوگا، جنہوں نے اب تک ٹیکس کی مدمیں ایک روپیہ بھی نہ دیا ہو، لیکن شرط یہ ہےکہ وُہ ایک بار چالیس ہزار روپے کی رقم بطور انکم ٹیکس ادا کریں۔ اس کے بعد، سنہ 2013 کے سال سے اُنہیں باقاعدگی کے ساتھ آمدنی کے گوشوارے جمع کرنے ہونگے اور اُس پر جو انکم ٹیکس بنے گا وُہ ادا کرنا ہوگا۔

اُن کےمعاونین کا کہنا تھا کہ اگر یہ پیش کش قبول نہ کی گئی تو ایسے لوگوں کے شناختی کارڈ منسُوخ کر دئیے جائیں گے۔ شناختی کارڈ ملک سے باہر جانے، بینک میں حساب کھولنے اور جائداد کی خرید و فروخت کے لئے لازمی ہے۔ چنانچہ، جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے، اُن کو عام معافی کا وقت ختم ہونے پر یہ سزا دی جا سکتی ہے۔

اُن کے معاونین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وُہ ٹیکس کی چوری کرنے والوں کے ناموں کی تشہیر بمعہ ان کی جائداد کے اخبارات اور انٹرنیٹ پر کریں گے۔ بلکہ، ان لوگوں کو انعام دینے کے لئے قانون بنانے کی بھی سفارش کریں گے جو ٹیکس کی چوری کرنے والوں کی نشاندہی کریں۔

اخبار نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ طریقہ کار متنازعہ ضرور ہے، لیکن یہ ٹیکس کی چوری کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں کا سراغ لگانے کا آسان طریقہ ہے۔اور بہت سُوں کے نزدیک اس کی ایسے ملک میں اشد ضرورت ہے جہاں آبادی کا صرف ایک فی صد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے مسائل کی لمبی فہرست ہے، لیکن ان سب میں پہلے نمبر پر ٹیکسوں کے محاصل کا جمع نہ ہو سکنا ہے۔ اور، جیسا کہ مسٹر حکیم نے کہا، پاکستان کا ٹیکس جمع کرنے کا ریکارڈ ساری دنیا میں بدترین ہے اور پچھلے 15 سالوں کے دوران کسی کے خلاف ذاتی انکم ٹیکس کی چوری کرنے کا ایک بھی مقدّمہ نہیں چلایا گیا۔

اخبار کہتا ہےکہ مسٹر حکیم اور اُن کے کمپیوٹر ماہرین کی جماعت نےمختلف قومی ڈیٹا بیس کا تجزیہ کرکےلوگوں کے آمدنی اور خرچ کے سوانحی خاکے ترتیب دئے ہیں۔ ان کے ایک ماہر صمد خُرّم کا کہنا تھا کہ پاکستا ن میں اس سے پہلے دی گئی عام معافیاں اس لئے ناکام ہو ئیں کیونکہ حکومت کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ٹیکسوں کی کون چوری کرتا ہے۔

’لیکن، اب ہمیں ان کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ ان کے بچوں کے بارے میں، بیویوں کے بارے میں۔ وُہ کہاں کہاں کا سفر کرتے ہیں وُہ کون سی گاڑی چلاتے ہیں،وغیرہ وغیرہ‘۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ ’فسکل کلف‘ یا مالیاتی مسئلے کے بعد امریکہ کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، وہ ہے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا۔ کیونکہ، اخبار کی نظر میں یہ بھی اقتصادی اور سلامتی کا مسئلہ ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں مختلف خطرے ضرور ہیں، لیکن بے عملی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر، تیل کی قیمتوں کے معاملے میں اور نتیجتاً امریکی معیشت کے لئے بھی۔

اخبار کہتا ہے کہ ایران کے خلاف بین الاقوامی تعزیرات کی وجہ سے تیل کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اور عالمی رسد میں اس تخفیف کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اور اگر ایران کےخلاف فوجی کاروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں پورے خطے سے آنے والی تیل کی رسد میں رخنہ پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ، مغرب کے خلاف جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایران آبنائے ہُرمُز کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

دنیا کی تیل کی مجموعی رسد کا پانچواں حصّہ اِسی آبنائے کے راستے سے گُذرتا ہے۔تیل کی رسد میں رخنہ پڑنے سےسنگین اقتصادی نتائج مرتّب ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ایران کے جوہری پروگرام کو نہیں روکا گیا تو اس کے بھی براہ راست اور بالواسطہ نتائج نکلیں گے۔

اخبار نے امریکی اور دوسرے پالیسی سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ جب وُہ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ ایران کو جوہری عزائم سے باز رکھنے کے لئے کیا کُچھ کرنا پڑے گا، تو اُن کی نظر محض قلیل وقتی اقتصادی دباؤ یا فوجی کاروائی پرنہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ، یہ بات ان کے زیر نظر رہنی چاہئے کہ اگر ایران کے پاس بم آ گیا تو وہ عالمی منڈیوں تباہی لاسکتا ہے۔


اُدھر ’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ ہےکہ جنوبی کوریا کے عام انتخابات کے نتیجے میں شمالی کوریا کی طرف پالیسی یکسر بدل جائے گی، چاہے ان میں کسی بھی صدارتی امیدوار کی جیت ہو اور سبکدوش ہونے والےصدر نے شمال کی طرف جوسخت گیر پالیسی روا رکھی ہے اُس کا خاتمہ ہونے والا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ دونوں صدارتی امید وار شمال کی طرف زیادہ اعتدال پسند رویہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں۔ اختلاف صرف اس پر ہے کہ جنوبی کوریا کو کتنی سرمایہ کاری اور کتنی امداد شمالی کوریا کے لئے وقف کرنی چاہئے۔ اور، اسی بات پر امریکہ کے ساتھ پھوٹ بھی ہو سکتی ہے۔

قدامت پسند پارٹی کی خاتون امید وار مٕس پارک گوین ہائی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کےمُون جے إن کے مابین مقابلہ سخت ہے۔ لیکن، دونوں امیدواروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری پروگرام سے باز رکھنے کے مقصد سے اُس کے خلاف بین الاقوامی تعزیرات کی جو پالیسی اپنائی گئی تھی، تاکہ اس سے جنوب سے ُاس کی مخاصمت کو ختم ہو، وُہ ناکام ہوئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے بُدھ کو تین مرحلوں والا راکیٹ داغے جانےکے باوجود یہ امیدوار اپنے اس وعدے پر قائم ہیں کہ وُہ شمالی کوریا کو زیادہ فیاضانہ امداد فراہم کریں گے اور اس کے نئے لیڈر کٕم جانگ ان کے ساتھ مُذاکرات کریں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ جنوبی کوریا میں ایک نئے صدر کو اقتدار کی منتقلی کے لئے یہ وقت اوباما انتظامیہ کے لئے ایک مسئلہ ہوگا اور باوجودیکہ دونوں امیدوار امریکہ کےساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسٹر مُون خاص طور پر ایک ایسے وقت میں امریکہ کے نزاعی اتحادی ثابت ہوسکتے ہیں، جب اوباما انتظامیہ ایشیا میں اپنا اثر ونفوذ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG