رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان بھر میں خسرہ کی ہلاکتوں میں اضافے کے باعث اگلے ہفتے خسرہ ویکسینیشن مہم کے دوران 29 لاکھ بچوں کو خسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے

صوبہ سندھ میں خسرہ سے 200 سے زائد بچوں کی ہلاکتوں کے بعد خسرہ نے ملک کے دیگر حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جن میں صوبہ پنجاب کے علاوہ اب کوئٹہ اور اسلام آباد میں بھی شامل ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ صوبہ سندھ میں بروز بدھ خسرہ سے مزید 18 بچے جاں بحق ہوگئے۔

تاہم، سندھ کے اندرونی حصوں میں مزید ہلاکتوں کے بعد بھی ویکسینیشن کا عمل تاحال شروع نہیں کیا جاسکا۔

اطلاعات کے مطابق، خسرہ سے متاثرہ بچوں کے والدین ’اپنی مدد آپ‘ کے تحت نجی اسپتالوں میں علاج کروانے پر مجبور ہیں۔

خسرہ کے بخار سے متاثرہ سینکڑوں بچے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ادھر پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں بھی خسرہ کی وبا سے درجنوں بچے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم، ڈیرہ غازی خان میں خسرہ کے باعث کسی بچے کی موت واقع نہیں ہوئی۔

بتایا جاتا ہے کہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں بھی خسرہ کی بیماری میں مبتلا متعدد بچے پمز اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ادھر خسرہ کی بیماری بلوچستان کے شہر کوئٹہ تک پھیل گئی ہے۔ بلوچستان کے علاقے سبی میں خسرہ سے 18 کم سن بچے متاثر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان بھر میں خسرہ کی ہلاکتوں میں اضافے کے باعث اگلے ہفتے خسرہ ویکسینیشن مہم کے دوران 29 لاکھ بچوں کو خسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔

عالمی ادارہ صحت نے خسرہ کی وبا کے پھیلنے کی وجہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا نہ لگوانا قراردیا ہے، اور انکشاف گیا ہے کہ حفاظتی ٹیکے صرف 65 فیصد بچوں کو ہی لگائے جاتے ہیں، جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 80 فیصد سے بھی زائد ہے۔
XS
SM
MD
LG