رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ: مربوط انٹیلی جنس نظام پر کام جاری

  • شمیم شاہد

جرائم اور دہشت گردی کے انسداد میں انٹیلی جنس معلومات کا کردار سب سے اہم ہے اسی لیے حکومت نے ’ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران دہشت گردی و انتہا پسندی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ اس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ملحقہ اس صوبے میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں جہاں سیکورٹی فورسز نشانہ بنتی رہی ہیں وہیں عام شہریوں کا بی خاصا جانی نقصان ہوچکا ہے۔

یہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے نو منتخب صوبائی حکومت خفیہ معلومات کے حصول کے لیے ’ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس‘ کے نام سے ایک خصوصی سیل بنا رہی ہے۔

صوبائی پولیس کے سربراہ احسان غنی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جرائم اور دہشت گردی کے انسداد میں انٹیلی جنس معلومات کا کردار سب سے اہم ہے اور اسی لیے حکومت نے خفیہ معلومات کے حصول کے نیٹ ورک کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

’’ہم ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس بنا رہے ہیں، تین سالوں کے دوران ہم اس میں شامل جوانوں اور افسران کو جدید آلات سے لیس کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ہمیں انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں بہت مدد کرے گا۔‘‘

صوبے میں پولیس کے زیر انتظام انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں لیکن انسپکٹر جنرل احسان غنی کے بقول وہ اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔

’’اس ضمن میں دو لائنز پر کام شروع کیا گیا، (جن میں سے) ایک یہ کہ جو ہمارے موجودہ وسائل خاص طور پر ہماری ضلعی سکیورٹی برانچ ہے اس کو ہم دوبارہ سے زندہ کریں۔ ‘‘

پاکستان میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اس ضمن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بین الاصوبائی رابطوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے صوبے میں ایک مرکزی سیل کے قیام کے علاوہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت وہ اضلاع جن کی سرحدیں قبائلی علاقوں سے ملتی ہیں وہاں فرنٹیئر کانسٹبلری کو موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
XS
SM
MD
LG