رسائی کے لنکس

تیس سالہ سمیرا جبیں فقیر آباد کے تھانے میں خواتین سیل کی انچارچ آفیسر ہیں جن کی اہم ذمہ داریوں میں خواتین کی شکایات کے لیے رابطہ پوائنٹ فراہم کرنا ہے ۔

سمیرا جبیں پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے ایک ماڈل پولیس تھانے میں عورتوں کے نئے شکایتی مرکز کی انچارچ آفیسرہیں ۔خواتین کی انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایسے ماڈل پولیس تھانے پشاور میں صوبائی حکومت اور برطانوی حکومت کے تعاون سے قائم کئے گئے ہیں ۔

برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( ڈی ایف آئی ڈی ) کے مالی تعاون سے پختونخواہ صوبے میں انصاف تک خواتین کی دسترس کو بہتر بنانے کے لیے ایسے ماڈل پولیس تھانے قائم کئے گئے ہیں جوخیبرپختونخواہ حکومت کی شراکت داری اور برطانیہ کی مالی معاونت سے چلتے ہیں۔ پشاور میں ایسے پولیس تھانوں کی تعداد تین ہے جہاں خواتین کی شکایات کے لیے علیحدہ شکایتی مرکز قائم ہے۔

تیس سالہ سمیرا جبیں فقیر آباد کے تھانے میں خواتین سیل کی انچارچ آفیسر ہیں جن کی اہم ذمہ داریوں میں خواتین کی شکایات کے لیے رابطہ پوائنٹ فراہم کرنا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، سمیرا پچھلے تین برسوں سے خواتین پولیس میں اپنے فرائض احسن طریقے سےانجام دیتی رہی ہیں اور ان دنوں خواتین کے شکایتی مرکز میں بطور افسر تعینات ہیں جہاں وہ عورتوں کی شکایت سنتی ہیں ان کا انداراج کرتی ہیں اور مرد پولیس افسران سے مشورہ کرنے کے بعد مناسب کارروائی کرتی ہیں۔

سمیرا نے ماڈل تھانوں میں خواتین کے لیے علیحدہ شکایتی مرکز کے قیام کو ایک قابل تعریف عمل قرار دیا انھوں نے کہا کہ، عورتیں مردوں کے بجائے خواتین سے اپنی پریشانی کا اظہار آسانی سے کر لیتی ہیں خاص طور پر سنگین قسم کے واقعات مثلاً اغواء کی رپورٹ کرنے کے لیے خواتین کے شکایتی مرکز کی اشد ضرورت تھی۔

سمیرا کہتی ہیں کہ ان کے لیے پولیس افسر بننا ایک اعزاز ہے اس جراتمندانہ پیشے میں عورتوں کی بے حد کمی ہےتاہم صوبے کی عورتیں اپنے روایتی کردار سے باہر نکل کر معاشرے کو اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہیں "پشاور کی عورتیں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور ٹیچر بن رہی ہیں حالات بدل رہے ہیں ۔"

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گھریلو تشدد، جنسی زیادتی، جبری شادی اور عزت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کے واقعات بہت کم رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ اور خیبر پختونخواہ حکومت پولیس کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عورتیں اعتماد کے ساتھ اپنے ساتھ ہونے والے جرائم کی رپورٹ کر سکیں اور انصاف کا مطالبہ کریں اور اس جدوجہد میں پولیس افسر اور پراسیکیوٹر کا کردار لازمی ہوتا ہے۔

بتایا گیا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے تعاون سے اسی قسم کے 7 مزید ماڈل پولیس اسٹیشنز 2016 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG