رسائی کے لنکس

تسنیم اسلم نے بتایا کہ یہ دورہ وزیراعظم نواز شریف کے سرکاری دورہ ایران کی تیاری کے سلسلے کی کڑی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اہم دورے پر ایران میں ہیں جہاں اُنھوں نے عہدیداروں سے ملاقاتوں میں دوطرفہ اُمور اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ کیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس دورے کے موقع پر سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی سرتاج عزیز کے ہمراہ ہیں۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے سرکاری دورہ ایران کی تیاری کے سلسلے میں پاکستانی عہدیداروں کا یہ دورہ اہم ہے۔

’’میں آپ کو یاد دلاؤں گی کہ جب سے وزیراعظم کے دورے کی تصدیق ہوئی ہے، ہم بتاتے رہے ہیں کہ اس سے پہلے ہم بہت سی چیزیں جو ہم کریں گے اور بہت سے اعلٰی سطحی دورے ہوں گے۔ یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور ایران کے وزیر داخلہ نے بھی ابھی پاکستان آنا ہے۔‘‘

تسنیم اسلم نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورہ تہران سے قبل اسلام آباد چاہتا ہے کہ دوطرفہ اقتصادی کمیشن کا مشترکہ اجلاس کا انعقاد بھی ہو سکے تاکہ دونوں ملکوں کی قیادت کی ملاقات کو بامقصد بنایا جایا۔

سرتاج عزیز ایرانی صدر حسن روحانی کو وزیراعظم نواز شریف کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا جب کہ دونوں ملکوں کے اعلٰی سفارت کاروں کے درمیان دوطرفہ اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

توقع ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف مئی کے وسط میں تہران کا دورہ کریں گے لیکن تاحال اس بارے میں حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ اُن کا ایران کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات میں رواں سال کے اوائل اُس وقت تناؤ پیدا ہو گیا تھا جب فروری میں ایرانی عہدیداروں نے الزام لگایا تھا کہ اُس کے پانچ سرحدی محافظوں کو اغوا کر کے شدت پسند پاکستانی حدود میں لے گئے تھے۔

اغوا کی ذمہ داری شدت پسند گروپ جیش العدل نے قبول کی تھی جو ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔

اس مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں اُس وقت شدت آ گئی تھی جب ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحمان فضلی نے متنبہ کیا تھا کہ اگر پاکستان نے اُس کے اہلکاروں کو رہا کرانے کے لیے کچھ نا کیا تو اُن کا ملک اس کام کے لیے اپنی فورسز پاکستانی حدود میں بھیج سکتا ہے۔

پاکستان نے ایرانی وزیر داخلہ کے بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پڑوسی ملک کو ہر گز پاکستانی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کا کوئی اختیار نہیں۔

پاکستان نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ایرانی سرحدی محافظوں کو پاکستانی حدود میں لایا گیا ہو۔

بعد میں اپریل کے اوائل میں ایرانی میڈیا کے مطابق چار مغوی سرحدی محافظوں کو شدت پسندوں نے رہا کر دیا جب کہ اُن کے ایک ساتھی کو اغواء کاروں نے قتل کر دیا تھا۔

یاد رہے کے رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان اور ایران کی مشترکہ بحری مشقیں بھی ہوئیں تھی۔
XS
SM
MD
LG