رسائی کے لنکس

یوکرین: باغیوں کی حراست میں چار یورپی مبصرین رہا


روسی وزیر خارجہ

روسی وزیر خارجہ

یورپی یونین نے علیحدگی پسندوں اور اُن کے روسی حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے بحران کی کشیدگی مین کمی لانے کے لیے اقدامات اٹھائیں یا پھر مزید تعزیرات کے لیے تیار ہوجائیں

مشرقی یوکرین کے روس نواز باغیوں نے چار یورپی نگرانوں کو رہا کر دیا ہے،جنھیں ایک ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔

ان چاروں مبصرین کا تعلق یورپ کی تنظیم برائے سلامتی اور تعاون (او ایس سی اِی) سے ہے۔ ایک ماہ قبل لہانسک سے قید کیے گئے ان مبصرین کو ہفتے کے دِن رہائی ملی۔

چار دیگر افراد جنھیں ڈونیسک سے پکڑ لیا گیا تھا، اُنھیں ایک ہفتہ قبل جانے کی اجازت دی گئی۔


یورپی تنظیم کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ سب لوگ صحتمند ہیں۔ یہ واضح نہیں آیا اُنھیں حراست میں کیوں لیا گیا۔

یورپی یونین نے علیحدگی پسندوں اور اُن کے روسی حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے بحران کی کشیدگی مین کمی لانے کے لیے اقدامات اٹھائیں یا پھر مزید تعزیرات کے لیے تیار ہوجائیں۔

یورپی یونین کے مطالبات میں جو اقدامات شامل ہیں اُن میں امن مذاکرات اور ’او ایس سی اِی‘ کے مبصرین کو اپنے کام سرانجام دینے کی اجازت دینا شامل ہے۔

یوکرینی صدر پیترو پوروشنکو نے جمعے کے دِن باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کو تین روز تک بڑھا دیا ہے۔

کچھ باغیوں نے کہا ہے کہ وہ تب تک امن کو برقرار رکھیں گے جب تک یوکرین کی فوج ایسا کرنے پر تیار ہوگی۔

ہفتے ہی کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام لگایا کہ امریکہ یوکرین کو، بقول اُن کے، روس کے ساتھ ’محاذ آرائی کی راہ‘ پر دھکیل رہا ہے۔

لاوروف نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ بحران کا تصفیہ کرنے کے امکانات بہتر ہوتے اگر امریکہ مذاکرات کا حصہ نہ ہوتا، بلکہ ان میں صرف روس اور اس کے یورپی ساجھے دار شامل ہوتے۔

XS
SM
MD
LG