رسائی کے لنکس

چین کے سابق اعلیٰ فوجی اہل کار کو کورٹ مارشل کا سامنا


پبلک سکیورٹی کے سابق وزیر، ژو یانگ کینگ

پبلک سکیورٹی کے سابق وزیر، ژو یانگ کینگ

رپورٹ کے مطابق، 71 برس کے ژو پر الزام ہے کہ سنٹرل ملٹری کمیشن کے سابق وائس چیرمین کے عہدے پر فائز ہونے کے دوران، اُنھوں نے پروموشنز کے عوض رشوت لینا شروع کی

چین کے جنرل ژو قائے ہو کو بدعنوانی کے الزامات میں کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔

کبھی وہ چین کی دنیا کی سب سے بڑی فوج کے دوسرے اعلیٰ ترین اہل کار ہوا کرتےتھے۔ وہ گذشتہ سال ریٹائر ہوئے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے پیر کے روز رپورٹ دی ہے کہ 71 برس کے ژو پر الزام ہے کہ سنٹرل ملٹری کمیشن کے سابق وائس چیرمین کے عہدے پر فائز ہونے کے دوران، پروموشنز کے عوض رشوت لینے لگے تھے۔

اُنھیں کئی ماہ تک گھر میں نظربند رکھا گیا تھا۔

صدر ژی جِن پِنگ کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں، جو نام اب تک سامنے آئے ہیں، اُن میں ژو اعلیٰ ترین اہل کار ہیں۔

سرکاری میڈیا نے یہ بھی خبر دی ہے کہ ژو اور تین دیگر افراد، جیانگ زیمن، جو سرکاری اثاثوں کے چین کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں؛ پبلک سکیورٹی کے سابق نائب وزیر لی ڈونگ شینگ؛ اور وانگ یون شن کو رشوت ستانی کے الزام میں کمیونسٹ پارٹی سے بے دخل کیا گیا ہے۔

تین دیگر افراد کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ چین کے سابق سکیورٹی کے سربراہ، زاؤ یونگ کینگ کے قریبی دوست ہیں۔

زاؤ کمیونسٹ پارٹی کے سابق سینئر اہل کار؛ اور پولٹبیورو اسٹنڈنگ کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ بدعنوانی کے ایک دوسرے معاملے کی چھان بین میں شامل ہیں۔ اُن کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حراست میں ہیں، لیکن اُن کے خلاف باضابطہ طور پر الزامات عائد نہیں کیے گئے۔

XS
SM
MD
LG