رسائی کے لنکس

یوکرین: شدید تناؤ، نیٹو جنرل کا روس پر الزام


صدر پیترو پوروشنکو

صدر پیترو پوروشنکو

’یہ کس قسم کا امن سمجھوتا ہے؟ اسے کون امن کہہ سکتا ہے؟ کیا پوروشنکو اور اُن کی نئی منتخب حکومت یہ نہیں دیکھتے کہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں؟‘

مشرقی یوکرین میں اندر ہی اندر ابلتی ہوئی تناؤ کی صورت حال میں مزید بگاڑ آتا جا رہا ہے، ایسے میں پیر کے دِن صدر پیترو پوروشنکو نے یہ اعلان کیا کہ وہ روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ کی گئی یکطرفہ جنگ بندی ختم کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے جیف سیلڈن نے پینٹگان سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک اعلیٰ امریکی اورنیٹو کے جنرل اس کا زیادہ تر ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہیں۔

حالانکہ جب جنگ بندی عمل میں تھی، امن کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔

سلوینسک مشرقی یوکرین کا وہ قصبہ ہے جو فسادات کا محور بنا ہوا ہے، وہاں مقیم ایک خاتون، لدمیلا نے فوری طور پر اس کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیا۔

بقول اُن کے،’یہ کس قسم کا امن سمجھوتا ہے؟ اسے کون امن کہہ سکتا ہے؟ کیا پوروشنکو اور اُن کی نئی منتخب حکومت یہ نہیں دیکھتے کہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں؟‘

لیکن، جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ہی، نیٹو کے اعلیٰ جنرل اس بات پر شبہے کا اظہار کر رہے تھے کہ روس اسے جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔

جنرل فلپ بریڈلو کے بقول، ہم دیکھ رہے ہیں کہ تناؤ کا سلسلہ جاری ہے، سرحد پار مشرقی حصے سے تنازع کو بھڑکانے کی حمایت جاری ہے۔ اور جب تک ہم اسے کامیاب ہوتا ہوا دیکھیں، میرے خیال میں، ہمیں آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔

نیٹو کے اعلیٰ ترین اتحادی کمانڈر، جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ یوکرین کی سرحد کے ساتھ روس کے اب بھی سات بٹالین کے قریب دستے تعینات ہیں، ساتھ ہی اسپیشل آپریشن فورسز کے متعدد چھوٹے دستے شامل ہیں۔ اور سارا کام مکمل نہیں ہوا۔

اُن کے بقول، کئی قسم کے ہتھیار اور اثاثے ہیں جو سرحد پار جار رہے ہیں۔

کچھ ہی ہفتے قبل، نیٹو نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر جاری کی تھیں جن میں 10 روسی ٹینکوں کو آتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جو مقام یوکرین کی سرحد سے محض 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جب کہ اُن میں سے تین ٹینک بالآخر سرحد پار کر چکے تھے۔

جنرل بریڈلو نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یوکرین کے فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے میں روسی اسلحہ استعمال ہوا ہو۔

اور، اُنھوں نے متنبہ کیا کہ مشرقی یوکرین میں روسی افواج ’بہت زیادہ سرگرم عمل‘ ہیں۔

XS
SM
MD
LG