رسائی کے لنکس

نوری المالکی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اُس وقت تک منصب پر فائز رہیں گے جب تک کہ اُن جنگجوؤں کو شکست نا دے دیں جنہوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کے منصب کے لیے اُمیدوار ہوں گے، باوجود اس کے کہ اُن پر دباؤ ہے کہ وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔

عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک پیغام میں مالکی نے کہا کہ ’’میں وزارت عظمٰی کے لیے بطور اُمیدوار کسی صورت پیھچے نہیں ہٹوں گا۔‘‘

اُنھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اُس وقت تک منصب پر فائز رہیں گے جب تک کہ وہ اُن جنگجوؤں کو شکست نا دے دیں جنہوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

نوری المالکی کی زیر قیادت شیعہ جماعتوں نے اپریل میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اُس وقت اُنھیں تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کے لیے مضبوط اُمیدوار قرار دیا جا رہا تھا لیکن بعد میں سنی شدت پسندوں کی تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق ولشام (داعش) کی کارروائیوں میں تیزی اور جنگجوؤں کی طرف سے ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضے سے ملک بحران کا شکار ہو گیا۔

رواں ہفتے عراق کی نو منتخب پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہوا، لیکن قانون ساز وزارت عظمٰی کے نام پر متفق نا ہوئے۔

ملک کے معتبر ترین شیعہ عالم آیت اللہ علی السیستانی نے پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق عدم اتفاق کو افسوسناک ناکامی قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG