رسائی کے لنکس

’میرے اندر کی تکلیف میرے کام میں جھلکتی ہے‘


ڈرامہ نویس، خلیل الرحمٰن قمر کے بقول، ’بدقسمتی سے، غم روزگار میں، ہمارے ملک کے شیکسپئیر، چودہ چودہ، بارہ بارہ سال کی عمر میں مر جاتے ہیں، یا کسی دوکان پر ’چھوٹے‘ بن جاتے ہیں، یا کسی ورکشاپ میں پانا پکڑ کر گاڑی کے نیچے لیٹے ہوتے ہیں‘

یوں تو پاکستان گزشتہ ساڑھے چھ دہائیوں سے ہی اپنی تاریخ کے ایک ’نازک دور‘ سے گزر رہا ہے، لیکن اِن دنوں، اسلام آباد کے ریڈ زون میں جاری احتجاجی دھرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک لفظ بار بار استعمال کیا جا رہا ہے۔ سکرپٹڈ۔۔۔ یعنی جو ہور ہا ہے، اس کا سکرپٹ جملہ اداکاروں نے نہیں، کسی نادیدہ ہاتھ نے لکھا ہے۔

لیکن، ہم آج جس سکرپٹ کی بات کرنے والے ہیں وہ اسلام آباد میں جاری دھرنے کا نہیں، پاکستانی ڈرامہ سیریل ’پیارے افضل‘ کا ہے، جس نے 36 ہفتوں تک ، پاکستان کے اندر اور باہر رہنے والے ناظرین کی توجہ اپنے ساتھ سختی سےباندھ کر رکھنے کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن ڈرامہ کی تاریخ کے کچھ بےحد اہم ریکارڈ توڑے اور کچھ نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔

ایک کہانی جس کے کرداروں نے اپنی تمام تر سادگی اور بھولپن کے باوجود، آج کے پاکستان کو درپیش کچھ اہم مسئلوں کی راکھ میں بڑی ملائمت سے کچھ چنگاریاں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

کہانی کی بنت، اس کے کردار اور ان کی زبان سے ادا ہونے والے مکالموں کے پیچھے ایک کہانی کار۔۔ ایک سکرپٹ رائٹر چھپا ہوتا ہے۔۔اور اگر سکرپٹ لکھنے والا خلیل الرحمٰن قمر جیسا ہو، تو تحریر میں وہ گہرائی، معنویت، جادو پذیری اور سیاسی فہم پیدا ہو ہی جاتا ہے، جو دیکھنے والوں کوچھتیس ہفتوں تک اپنا اسیر بنا کر رکھے، اور جب آخری پردہ گرے، تو شائقین کہانی کے Protagonist، مرکزی کردار کی موت پر اس شدید صدمے سے دوچار ہوں، کہ بقول شاعر:

’اس وقت تو لگتا ہے کہ اب کچھ بھی نہیں ہے۔ مہتاب، نہ سورج، نہ سویرا، نہ اندھیرا۔‘

’پیارے افضل‘ کے مصنف، خلیل الرحمٰن قمر کی اپنی نظر میں یہ ڈرامہ سیریل کیا تھا؟ اردو کے کلاسیکی ادب کا کوئی شاہکار یا ایک روٹین کا کمرشل وینچر؟

بقول اُن کے، میں نے اپنے سکول کے زمانے کے کلاس فیلو افضل کو بنیاد بنا کر، ڈرامے کا ’پیارے افضل‘ تخلیق کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ، ’افضل میرا سکول کا کلاس فیلو تھا۔ وہ خود ہی خط لکھ کر لایا کرتا تھا اپنے آپ کو، اور ہمیں سنایا کرتا تھا۔ اور ہمیں معلوم نہیں تھا۔ لیکن، ایک دن میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ جس دن ڈرامہ آن ائیر جا رہا تھا، میں نے اپنے دوست کو فون کرکے کہا کہ تم اللہ کے فضل سے مشہور ہونےوالے ہو۔ پہلے تو وہ ڈر گیا کہ اب میری پول کھلنے والی ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ دیکھو میں نے کہانی بن ڈالی ہے۔ نام تمہارا رکھا ہے ۔۔۔۔اور اللہ نے اسے عزت دی۔‘

خلیل الرحمٰن قمر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ انہوں نےمولوی سبحان اللہ کے کردار کے ذریعے، ملائیت کو پروموٹ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ملائیت ہر اس معاشرے میں پنپتی اور فروغ پاتی ہے، جہاں لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے‘۔

’میں ایک بہت لبرل مسلمان ہوں۔ میری ہمیشہ سے آرزو رہی کہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنوں کہ کوئی شخص مسلمان ہے۔۔۔شیعہ، سنی، وہابی، کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتا۔ گو کہ یہ چیز، اب ختم ہو چکی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ میری کہانی کا مولوی ایسا ہو جو اپنی بیوی سے پیار بھی کرے، گانا بھی گائے‘۔

ان کے نزدیک، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ملائیت نہیں، طبقاتی تفریق ہے۔

’کوئی راوین ہے، کوئی ایچی سونین ہے، کوئی پنجابین ہے، ہر مہنگے سکول کا اپنا ایک اسٹکر ہے۔ میں لوگوں سے پوچھتا ہوں، کیا انگریزی پڑھ لینے سے انٹلیکٹ (ذہانت) آجاتی ہے؟‘

’میں ایک ٹھیٹھ پنجابی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، جہاں سالہا سال تک اردو کا کوئی ٹھیک جملہ بولنے والا پیدا نہیں ہوا۔ یہ اللہ کی دین تھی کہ میں وہ بچہ تھا جو خود آگہی کے ساتھ پیدا ہوا۔ لوگوں نے میرا مذاق اڑایا کہ یہ آگیا اردو میڈیم۔۔ انگریزی سیکھنے کے لئے جتنی محنت میں نے کی ہے، میں جانتا ہوں اور میرا خدا جانتا ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ، ’میرے معاشرے کی عورت میچور نہیں ہے۔ اگر میچور اور تعلیم یافتہ ہے تو بھی اس کی دلچسپی بناوٹی چیزوں میں زیادہ ہے۔ میں ایمان کے ساتھ کہتا ہوں، جس دن میرے ملک کی معشوقہ، بہن، بیوی اور ماں اپنے سے منسلک مرد سے یہ پوچھنے لگے گی کہ تم اتنے پیسے لے کر آئے ہو، بتاؤ لائے کہاں سے ہو؟ ۔۔اس دن ہم ٹھیک ہو جائیں گے‘۔

خلیل الرحمٰن قمر کہتے ہیں کہ میں ان کے لئے لکھتا ہوں جو میرے لکھے ہوئے ڈرامے کو دیکھ کر کچھ سوچیں اور غور کریں۔

اُن کے الفاظ میں: ’میری کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے۔ لیکن، میرے اندر جو تکلیف ہے وہ میرے کام میں جھلکتی ہے۔ میرے ہاں جو داڑھی رکھ کر تجارت کر رہا ہے اور سفید جھوٹ بول رہا ہے۔ میرے اندر وہ دکھ ہے، جو مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے‘۔

افضل کے مرکزی کردار کی موت کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے افضل کے لئے ایک مختلف انجام سوچ رکھا تھا۔ لیکن، ’کراچی میں حمزہ علی عباسی نے ایک کھانے پر مجھ سے کہا کہ خلیل بھائی، مجھے مار دیجئے، میں زندہ ہو جاؤں گا۔ اور میں مان گیا کہ چلو اسے مار دیتے ہیں ۔‘

ڈرامے کے پس منظر کےلئے حیدرآباد اور کراچی کا انتخاب کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔۔ کہتے ہیں کہ ’مجھے کچھ ناموں سے خاص انسیت ہے۔ میں نے بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ تب لکھا تھا، جب ٹوبہ ٹیک سنگھ دیکھا تک نہیں تھا ‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فلم بھی بہت آگے جا سکتی ہے ۔ مگر،’بدقسمتی سے، غم روزگار میں، ہمارے ملک کے شیکسپئیر، چودہ چودہ، بارہ بارہ سال کی عمر میں مر جاتے ہیں، یا کسی دوکان پر ’چھوٹے‘ بن جاتے ہیں، یا کسی ورکشاپ میں پانا پکڑ کر گاڑی کے نیچے لیٹے ہوتے ہیں۔ مجھ پر تو اللہ نے مہربانی کر دی، ورنہ ابا کی بات نہ مانی ہوتی تو میں بھی شائد کسی گاڑی کے نیچے لیٹا نٹ کھول رہا ہوتا‘۔

خلیل الرحمٰن قمر کے بقول، ’ہمارے معاشرے میں ڈرے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم نے بزدلوں کی فصل پیدا کی ہے۔ اس میں سے جو کونپلیں پھوٹ رہی ہیں، اس سے مصلحت پسند لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ اور یاد رکھیں، مصلحت پسندی دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے، جس کی کوکھ سے باقی سارےگناہ جنم لیتے ہیں‘۔

’پیارے افضل‘ کے دو کرداروں بابو حمید اور افضل کے درمیان، کراچی اور لاہور کے حوالے سے ایک معنی خیز گفتگو کے پیچھے کیا تھا؟ اور کیا افضل سبحان اللہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کا حقیقی کردارتھا ۔۔؟ جاننے کے لئے آڈیو پر کلک کرکے خلیل الرحمٰن قمر کا مکمل انٹرویو سنیئے ۔۔۔۔

XS
SM
MD
LG