رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ " مریضوں کی تعداد اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو رہا ہے اور ہمیں اس وبا سے نمٹنے کے لیے تین سے چار گنا زیادہ کوشش کرنا ہوگی"۔

مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث عالمی ادارہ صحت نے اپنی درخواست دہراتے ہوئے دنیا بھر سے طبی شعبے سے وابستہ افراد کو مدد کے لیے اس خطے کا رجوع کرنے کا کہا ہے۔

ایبولا وائرس سے متاثرہ 4784 افراد میں سے 2400 سے زائد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ممالک گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں بڑے پیمانے پر ہنگامی مدد کی ضرورت کی۔

جمعہ کو جنیوا سے صحافیوں کے ساتھ ٹیلی فونک کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ " ایبولا کی وبا مغربی افریقہ میں سب سے بڑے پیمانے پر پھیلی اور یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے اور 40 سال میں اس بیماری کی سب سے شدید نوعیت کی وبا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ " مریضوں کی تعداد اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو رہا ہے اور ہمیں اس وبا سے نمٹنے کے لیے تین سے چار گنا زیادہ کوشش کرنا ہوگی"۔

مارگریٹ نے متاثرہ ملکوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہاں طبی سامان کے علاوہ ڈاکٹر اور نرسیں بھیجی جائیں۔

ایبولا وائرس سے حالیہ مہینوں میں متاثر ہونے والوں میں طبی عملے کے لوگ بھی شامل رہے۔

شعبہ صحت کے بعض غیر ملکی اہلکار جن میں متعدد امریکی اور کم از کم ایک برطانوی بھی مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG