رسائی کے لنکس

علاقائی استحکام: امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے مابین تعاون پر زور


اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی (نسٹ) میں بدھ کو طالب علموں سے خطاب میں رچرڈ اولسن نے علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کے لیے امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی (نسٹ) میں بدھ کو طالب علموں سے خطاب میں رچرڈ اولسن نے علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر اولسن نے کہا کہ ’’دونوں ملکوں (امریکہ اور پاکستان ) کے درمیان مضبوط تعلقات کا استوار ہونا علاقائی استحکام اور شہریوں کے خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ علاقائی استحکام اور خوشحالی حاصل کرنے کے لیے ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا قیام اہم ہے۔‘‘

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا موقع ہے جس سے امریکہ اور پاکستان فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کو زیادہ روشن مستقبل دے سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان سے دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

سفیر اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو سے اُنھیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان افغانستان سے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی، تجارت و معاشی تعلقات، تعمیر نو و بحالی اور علاقائی تعاون ایسے معاملات پر مل کر کام کرنے کے بہت مواقع اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سفیر اولسن کا کہنا تھا کہ تیزی سے مستحکم ہوتا ہوا افغانستان انتہا پسندی کے خلاف ایک مؤثر حلیف ثابت ہو گا، جو کہ خطے کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان، پاکستان اور خطے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا کیوں کہ یہ خود امریکہ اور خطے کے ممالک کی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جب خطے کے استحکام کی بات کی جائے تو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ اچھے تعلقات ناصرف دونوں ملکوں کے شہریوں بلکہ خطے بشمول افغانستان کے لیے مفید ہیں۔

’’امریکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بات چیت میں شامل نہیں ہے لیکن اُن کا ملک پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی باضابطہ بحالی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی سے ناصرف سرکاری سطح پر رابطے بحال ہوں گے بلکہ اس سے دوطرفہ حل طلب مسائل کو حل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

امریکی سفیر کی طرف سے افغانستان سے پاکستان کے تعلقات کے بارے میں بیان ایسے وقت سامنے آیا جب رواں ہفتے کے اواخر میں افغان صدر اشرف غنی کا دورہ اسلام آباد متوقع ہے۔

پاکستانی عہدیدار بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان سے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستانی صدر ممنون حسین نے افغانستان کے نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی جب کہ اس کے بعد پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اور اُن کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG