رسائی کے لنکس

عراق: فروری میں 600 عام شہری ہلاک


فائل

فائل

فروری میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عراق میں پرتشدد واقعات اور دہشت گرد حملوں میں گزشتہ ماہ 600 سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

لیکن، عالمی ادارے کے مطابق، اتنی زیادہ ہلاکتوں کے باوجود فروری کا مہینہ مئی 2014ء کے بعد سے عام شہریوں کے لیے سب سے کم ہلاکت خیز رہا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

بیان میں عراق کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی نکولائی ملادینوو نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم 'داعش' عراق کے تمام شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کو عراق کے ان علاقوں سے بھی انتقامی کارروائیوں اور قاتلانہ حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں جنہیں داعش کے قبضے سے آزاد کرایا گیا ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی گزشتہ دنوں حکام کو صوبہ دیالہ میں شیعہ ملیشیاؤں کے ہاتھوں صوبے کی سنی آبادی کے قتل عام کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ صوبہ دیالہ کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جنوری میں کی جانے والی فوجی کارروائی کے دوران شیعہ لشکروں نے آزاد کرائے جانے والے سنی اکثریتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی تھی۔

دریں اثنا عراق میں جاری تشدد کا ریکارڈ مرتب کرنے والی برطانوی تنظیم 'عراق باڈی کاونٹ' کے اعداد و شمار کےمطابق فروری میں عراق میں شدت پسندوں کے حملوں اور بم دھماکوں میں کم از کم 700 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

'عراق باڈی کاونٹ' نے دعوی کیا ہے کہ عراقی اور غیر ملکی افواج کے فضائی حملوں، فوجی کارروائیوں اور نامعلوم افراد کے حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

XS
SM
MD
LG