رسائی کے لنکس

مقدم نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ زمین پر 13 کلومیٹر کے علاقے میں بکھرا پڑا تھا جس سے ان کے بقول یہ تصدیق ہوتی ہے کہ جہاز بلندی پر ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔

روس کے مسافر طیارے کی تباہی سے متعلق ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یہ واقعہ بم دھماکے کا نتیجہ ہو سکتا ہے تاہم مصر کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

گزشتہ ہفتے شرم الشیخ (مصر) سے سینٹ پیٹرزبرگ (روس) جاتے ہوئے یہ جہاز جزیرہ نما سینا پر سے پرواز کے دوران تباہ ہو گیا تھا اور طیارے کے بلیک باکسز میں پرواز کے آخری لمحے میں ریکارڈ ہونے والی زوردار آواز سے اشارے ملتے ہیں کہ اس پر کوئی دھماکا ہوا تھا۔

لیکن مصری ٹیم کے سربراہ ایمان المقدم کا کہنا تھا کہ ان کے ماہرین تاحال اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ یہ آواز کسی بم دھماکے کی تھی یا کچھ اور۔

صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ جہاز کو اڑان بھرے 23 منٹ اور 14 سینکڈ ہوئے تھے جب یہ تباہ ہوا جب کہ خودکار پائلٹ کا نظام بھی اس وقت عمل پذیر تھا۔

اس جہاز پر 224 افراد سوار تھے جن میں یوکرین کے تین شہری تھے اور باقی سب کا تعلق روس سے تھا۔ اس واقعے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔

مقدم نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ زمین پر 13 کلومیٹر کے علاقے میں بکھرا پڑا تھا جس سے ان کے بقول یہ تصدیق ہوتی ہے کہ جہاز بلندی پر ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین طیارے میں آخری لمحات میں پیدا ہونے والی آواز کا ہر پہلو سے تجزیہ کر رہے ہیں۔

ادھر حکام شرم الشیخ کے ہوائی اڈے کی وڈیو ریکارڈنگ کا بھی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ طیارے کی روانگی سے قبل کسی طرح کی مشکوک سرگرمی کا پتا چلایا جا سکے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون دونوں ہی اس واقعے میں دہشت گردی کا امکان ظاہر کر چکے ہیں لیکن روس اور مصر اسے فی الوقت مسترد کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG