رسائی کے لنکس

کرکٹر بلال، جسے پاکستانی بورڈ نے نہیں لیکن عمان نے دیکھ لیا


ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی 2016ء میں عرب ریاست عمان کی قومی ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی دکھانے والے پشاور کے باؤلر بلال خان کی وائس آف امریکہ کے پروگرام 'جہاں رنگ' میں اسد حسن کے ساتھ گفتگو

پشاور میں کرکٹ کے میدانوں میں قسمت آزمانے والے بلال خان کہتے ہیں کہ جب وہ مایوس ہو گئے کہ قسمت کی دیوی ان پر کبھی مہربان نہیں ہوگی اور قومی ٹیم کے دروازے ان کے لیے کبھی نہیں کھلیں گے، تو انہوں نے عمان سے ملنے والی پیشکش کو غنیمت جانا اور بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔

بلال خان نے جاری کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی باؤلنگ، خاص طور پر بنگلہ دیش کے خلاف نپی تلی گیند بازی سے کرکٹ کے کئی مبصرین کو متاثر کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی پرفارمنس پر پاکستان کے سابق اور متحدہ عرب امارات کے موجودہ کوچ عاقب جاوید اور پاکستان کے سابق شہرہ آفاق بلے باز کپتان اور افغانستان کے موجودہ کوچ انضمام الحق نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بلال خان نے بتایا کہ عمان کی ٹیم میں ان کی شمولیت افغان وکٹ کیپر بلے باز شہزاد کی مرہون منت ہے جنہوں نے ان تک عمانی ٹیم میں شمولیت کی پیشکش پہنچائی۔

بلال خان کے مطابق انہوں نے سوچا کہ پاکستان کے لیے کھیلنے کے امکانات تو نظر نہیں آ رہے، عمان کے لیے ہی کھیل لیا جائے۔ اس طرح وہ عمان میں ٹرائل دینے گئے اور کچھ میچز کھیلے جن میں کارکردگی کے بعد انہیں قومی ٹیم کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

عمان نے ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں 'گروپ اے' میں آئرلینڈ اور نیدرلینڈز کی ٹیموں کو شکست دی تھی لیکن سپر ٹین میں جانے کے لیے فیصلہ کن میچ میں اسے بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ بلال ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG