رسائی کے لنکس

کراچی کے علاقے کھارادر سے تعلق رکھنے والی یہ تینوں خواتین بھی اتوار کو سیلفی کے شوق میں ایک گلیشیئر میں داخل ہوکر سیلفیز بنارہی تھیں کہ اچانک گلیشیئر یا برف کا بڑا سا تودہ ان پر آگرہ جس کے نیچے دب کر وہ ہلاک ہوگئیں۔

سیلفی لینے کا شوق کراچی کی تین خواتین کی جان لے گیا ۔ تینوں خواتین سیاحت کی غرض سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے بالائی علاقے ناران گئی ہوئی تھیں جہاں اتوار کی شام سیلفیاں لیتے ہوئے 3 خواتین برف کے تودے تلے دب تک ہلاک ہوگئیں۔

باران اور دیگر علاقوں میں جگہ جگہ کھوکھلے گلیشیئر ہیں جن کے نیچے غار بن جاتی ہیں اور سیاح ان غاروں میں اندر جاکر تصویریں یا سیلفیاں بناتے ہیں۔

کراچی کے علاقے کھارادر سے تعلق رکھنے والی یہ تینوں خواتین بھی اتوار کو سیلفی کے شوق میں ایک گلیشیئر میں داخل ہوکر سیلفیز بنارہی تھیں کہ اچانک گلیشیئر یا برف کا بڑا سا تودہ ان پر آگرہ جس کے نیچے دب کر وہ ہلاک ہوگئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والی تینوں خواتین کا تعلق کراچی سے ہے اوروہ سڑک کنارے گلیشئر کے اندر ہول میں تصویریں اتاررہی تھیں کہ شام چار بجے کے قریب یہ واقعہ پیش آگیا۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کی لاشیں نکالنے میں قریب ایک گھنٹہ لگا۔ تینوں کی لاشیں پہلے ناران اسپتال منتقل کی گئیں اور بعد ازاں ان کے ساتھ آئے ہوئے رشتے داروں کے حوالے کردی گئیں ۔

خواتین کے نام روزینہ سلیم، ارم وقار اور نمرہ سفیان بتائے جارہے ہیں۔ تینوں شادی شدہ تھیں ۔

سیلفی بنانے کا شوق دنیا کے متعدد ممالک میں اب تک کئی درجن افراد کی جانیں لے چکا ہے ۔ اکثر لوگوں کو سیلفیز انتہائی رسک لیتے ہوئے بنوانے کا شوق ہوتا ہے اور اسی شوق شوق میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ۔

پاکستان میں پچھلے ہفتے بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک لڑکا سیلفی بناتے ہوئے دریامیں جاگرا جسے بچانے کے لئے اس کی ماں اور بہن دریا میں گئے تو تیز بہاؤ انہیں بھی اپنے ساتھ بہاکر لے گیا اور یوں ایک ہی واقعے میں تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

XS
SM
MD
LG