رسائی کے لنکس

اس سال ترک سرحد پر 163 پناہ گزین ہلاک ہوئے


ترک سرحدی محافظ شام سے ملحق سرحد کی نگرانی کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے سرحدی محافظ پناہ گزینوں پر گولی نہیں چلاتے لیکن وہ جہادیوں اور دهشت گردوں کو روکنے کے لیے اپنی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

ایک نگران گروپ نے منگل کے روز ترکی کے سرحدی محافظوں پر اس سال کے آغاز سے اب تک شام کے جنگ زدہ علاقوں سے اپنی جانیں بچا کر آنے والے کم از کم 163 باشندوں کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا ہے۔

یہ اس سلسلے کے الزامات میں سے تازہ ترین ہے جو شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر ترک سرحدی محافظوں کی جانب سے فائرنگ کے حوالے سے لگتے رہتے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے گروپ نے، جس کا دفتر لندن میں ہے، کہا ہے کہ سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہونے والوں میں 31 بچے اور 15 عورتیں شامل ہیں۔

ترک حکام نے مارچ 2015 میں شام کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی۔ شروع میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی عارضی ہے۔ لیکن اس کے بعد سے شامیوں کی جانب سے اکثر یہ دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ ہوائی حملوں اور لڑائیوں سے اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والوں کو ترک سرحدی محافظ نشانہ بنا رہے ہیں۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے سرحدی محافظ پناہ گزینوں پر گولی نہیں چلاتے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ترکی پر حملے کی غرض سے آنے والے جہادیوں اور دهشت گردوں کو روکنے کے لیے اپنی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

شامی نگران گروپ کا کہنا ہے کہ پہلا پناہ گزین اس سال 12 جنوری کو ترک محافظ کی گولی سے ہلاک ہوا تھا۔ پناہ گزینوں کو مارنے پیٹنے اور ان سے رقم چھیننے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہیں۔

پچھلے سال ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا یورپی حکومتیں اپنے ہمسایہ ملکوں کی جانب سے شامیوں پر اپنے دروازے بند کرنے پر بالواسطہ طور پر پناہ گزینوں کے سخت برتاؤ کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔

اس سال کے شروع میں مغربی حکومتوں نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ شمالی شام کی لڑائیوں سے بھاگ کر آنے والوں کے لیے اپنے دروازے کھول دے۔

XS
SM
MD
LG