رسائی کے لنکس

بلوچستان کے کسان زرعی قرضوں کے لیے پریشان


بلوچستان میں بارشوں کی کمی سے فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے

زمیندار ایکشن کمیٹی کے عہدیدار عبد الرحمان بازئی کہتے ہیں کہ صوبے میں زمین داروں کو 1997ءکے بعد سے زرعی قرضے نہیں دیئے گئے۔

غلام مرتضیٰ زہری

بہادر خان بلوچستان میں اپنی ڈیڑھ سوا یکٹر زمین پر پیاز اور دوسری سبزیاں کاشت کرتے تھے مگر اب ان کی زمینوں کا بڑا حصہ بنجر ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بارشیں کم ہوئیں جس کی وجہ سے کھیتوں کو سیرا ب کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

نئے ٹیوب ویل لگانے کے لیے بہادر خان اور ان جیسے کئی چھوٹے زمین داروں نے زرعی ترقیاتی بینک سے آسان شرائط اور قسطوں پر قرضہ لینے کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ دس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ان کی درخواستوں پر عمل نہیں ہوا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا” زرعی قرضے نہ ملنے کی وجہ سے ان کی زمینیں بنجر ہوگئی ہیں۔ زرعی ترقیاتی بینک اور وفاقی حکومت سے صرف پنجاب اور سندھ کے کسانوں کو زرعی قرضے مل رہے ہیں۔ جب کہ بلوچستان میں صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ “

بارشوں کی کمی سے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے
بارشوں کی کمی سے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے

بلوچستان میں زمین داروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم زمیندار ایکشن کمیٹی کے عہدیدار عبد الرحمان بازئی کہتے ہیں کہ صوبے میں زمین داروں کو 1997ءکے بعد سے زرعی قرضے نہیں دیئے گئے۔ حکومت گندم اور کپاس کی کاشت کے لئے پنجاب اور سندھ میں قرضے دی رہی ہے۔ بلوچستان میں گندم کے علاوہ دوسری اجناس اور سبزیاں بھی بڑی مقدار میں کاشت کی جاتی ہیں۔ لیکن پانی کی قلت اور زرعی قرضے نہ ملنے کی وجہ سے صورت حال تشویش ناک ہو گئی ہے۔

عبد الرحمان بازئی نے بتایا ” بلوچستان کے 34اضلاع میں سے صرف دو اضلاع کو زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے رس سال قرضے دیئے گئے ہیں جن میں ضلع قلات اور ضلع ژوب شامل ہیں ۔

بلوچستان کی زرعی اراضی کو پانی کی کمی کا سامنا ہے
بلوچستان کی زرعی اراضی کو پانی کی کمی کا سامنا ہے

واضح رہے کہ بلوچستان کے زمیندار چھوٹے قرضوں کے حوالے سے پہلے ہی زرعی ترقیاتی بینک کے تین ارب روپے کے مقروض ہیں ۔

کوئٹہ میں زرعی ترقیاتی بینک کے ایک عہدے دار خالق داد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بلوچستان میں بینک کے تین زون کام کررہے ہیں جن میں ہر برانچ میں زمین داروں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ بلوچستان کے زمین داروں کو زرعی قرضے نہیں مل رہے۔

ان کے بقول” بلوچستان کے زمیندار پہلے ہی زرعی ترقیاتی بینک کے مقروض ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھی زمین داروں کو قرضوں کی فراہمی کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ بعض نادہندہ افراد کے خلاف بینکنک کورٹس میں مقدمات ہیں۔ “

بلوچستان میں زراعت کی ترقی کے لئے حال ہی میں صوبائی حکومت نے ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو زراعت کے ماہرین زرعی شعبے کی ترقی کے لئے اہم قرار دے رہے ہیں اور دوسری جانب زمین دار اپنی زرعی ضروريات کے حوالے سے آسان شرائط پر زرعی قرضوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔

حکومت شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر توجہ دے رہی ہے۔
حکومت شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر توجہ دے رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG