رسائی کے لنکس

افغانستان میں پاکستانی ہیلی کاپٹر کی 'ہنگامی لینڈنگ' کے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس بات کا فیصلہ صدر اشرف غنی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا۔

افغانستان نے ملک کے مشرقی صوبے میں رواں ہفتے ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر کی 'ہنگامی لینڈنگ' کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ صدر اشرف غنی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا۔

ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرکو جمعرات کو صوبہ لوگر کے اذرا ضلع میں ہنگامی طور پر اترنا پڑا۔

حکومت پنجاب کا یہ ہیلی کاپٹر مرمت کے سلسلے ازبکستان کے راستے روس جا رہا تھا۔ جہاں اس نے ہنگامی لینڈنگ کی وہ ایک دورافتادہ علاقہ تھا اور یہاں اترنے کے بعد سے اس پر سوار سات افراد تاحال لاپتا ہیں۔

افغان صدر کے دفتر کی طرف سے جاری ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ازبکستان کے راستے روس جانے کے لیے افغانستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کے درخواست کی تھی۔ جس کی منظوری افغانستان کے شہری ہوابازی کے حکام نے دے دی تھی۔

بیان کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک خصوصی ٹیم اس ہیلی کاپٹر کے ہنگامی لینڈنگ اور اس معاملے سےجڑے دیگرتمام پہلوؤں کی تحقیقات کرے گی۔

ہیلی کاپٹر کے عملے میں چھ پاکستانی اور ایک روسی شہری شامل تھے جن کی خیریت کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا عملہ ان کی حراست میں ہے اور وہ خیریت سے ہے۔

دوسری طرف پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی 'آئی ایس پی آر ' نے ہیلی کاپٹر کے عملے سے متعلق سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئیٹر پر کہا کہ افغانستان میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے کسی کا بھی تعلق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے نہیں ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام مغویوں کی زندگی قیمتی ہے اور ان کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ہیلی کاپٹر کے عملے میں شامل ایک رکن جنرل راحیل شریف کے قریبی رشتے دار ہیں۔

ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے واقعہ کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ناصرف افغان صدر اشرف غنی سے عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی بلکہ انہوں نے افغانستان میں تعینات بین الااقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن سے فون پر رابطہ کر کے اس سلسلے میں مدد کی درخواست بھی کی۔

XS
SM
MD
LG