رسائی کے لنکس

زن ٹی وی۔۔ افغانستان میں عورتوں کا پہلا ٹیلی وژن چینل


22 سالہ کرشمہ ناز اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کراتے ہوئے

خواتین کے لیے ٹیلی وژن کا آغاز اس جانب اشارہ ہے کہ روزانہ رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کے باوجود أفغان معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے، اگرچہ اس کی رفتار سست ہے۔

افغانستان میں خواتین کا پہلا ٹیلی وژن چینل اپنی نشریات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں زندگی کے ہر شعبے پر مرد چھائے ہوئے ہیں، اپنی نوعیت کا یہ واحد ٹیلی وژن اسٹیشن خوش گوار اضافہ ہے۔

’ زن ٹی وی‘ اپنی نشریات کا آغاز اتوار سے کررہا ہے جس کے تمام پروڈیوسر اور اینکر خواتین سے لیے گئے ہیں۔

اگرچہ اکثر افغان ٹی وی چینلز پر خواتین نیوز ریڈرز دکھائی دیتی ہیں، مگر ٹیلی وژن کے تمام عملے کا خواتین پر مشتمل ہونا ایک منفرد بات ہے۔

خواتین کے لیے ٹیلی وژن کا آغاز اس جانب اشارہ ہے کہ روزانہ رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کے باوجود افغان معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے، اگرچہ اس کی رفتار سست ہے۔

زن ٹی وی کی ایک 20 سالہ پروڈیوسر خطیرہ احمدی نے خبررساں ادارے روئیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس ٹیلی وژن کے قیام پر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سی عورتیں ایسی ہیں جنہیں اپنے حقوق کا علم نہیں ہے۔

افغان حکومت اور غیرملکی امدادی گروپس اکثر اوقات افغانستان میں خواتین کے حقوق، ان کی تعلیم اور میڈیا کی آزادی کو مثبت سمت پیش رفت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سن 2001 میں طالبان حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے یہ ایک نمایاں کامیابی ہے۔

لیکن ان دعوؤں کے باوجود افغانستان آج بھی عورتوں کے لیے دنیا کے مشکل ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ جنگ زدہ اور غربت کے مارے اس ملک میں خواتین کے لیے مواقع بہت محدود ہیں۔

زن ٹی وی ملک میں تقریباً 40 کے قریب پہلے سے موجود ٹیلی وژن چینلز میں ایک نیا اضافہ ہے لیکن اس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

زن ٹی وی کے بانی حامد ثمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کابل میں یہ چینل اس لیے قائم کیا ہے کیونکہ یہاں پڑھی لکھی خواتین کی ایک بڑی تعداد خبروں اور مباحثوں کے ذریعے اپنے تجربات دوسری عورتوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔

محدود سرمائے سے قائم کیا جانے والا یہ چینل کم لاگت کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار کررہا ہے اور اس کا اسٹوڈیو کابل میں ہے۔ زن ٹی وی اپنی توجہ زیادہ تر ٹاک شوز، صحت اور موسیقی پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔

عملے میں شامل کئی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاندان کی مخالفت اور بعض عناصر کی دھمکیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اس شعبے میں آگے آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس سے دوسرے عورتوں میں حوصلہ پیدا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG