رسائی کے لنکس

وڈیو ڈاوٴن لوڈنگ میں ٹو جی ٹیکنالوجی گیارہ بارہ منٹ لیتی ہے تو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی سیکنڈز میں فائل ڈاوٴن لوڈ کر سکتی ہے۔ رہی بات کسی بھی عام ویب سائٹ کو اوپن کرنے، ایس ایم ایس، پکچر میسیجنگ، ایم ایم ایس، ای میل اور براوٴزنگ کی تو یہ سب کچھ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت بہت ہی سہل ہوجائے گا

پاکستان انتہائی جدید ’تھری جی‘ اور’ فور جی اسپیکٹرم ٹیکنالوجی‘ کے دور میں قدم رکھنے والا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال ایک ایسا سنگ میل ہے جو ملکی تاریخ و ترقی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیو نی کیشن اتھارٹی اس ٹیکنالوجی کو موبائل فون آپریٹنگ کمپنیز کو 23اپریل کو نیلام کرنے جارہی ہے۔

تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کیا ہے؟
عرف عام میں کہیں تو یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے ہر موبائل فون پر تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم ہو سکے گی۔ اس وقت جو ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے وہ ’ایج‘ یعنی ایکسچینج ڈیٹا ریٹس فار جی ایس ایم ایولوشن‘ یا 2جی یعنی سیکنڈ جنریشن ٹیکنالوجی کہلاتی ہے۔ لیکن، تھری جی اور فور جی عنقریب اس کی جگہ لے لے گی جس سے موبائل ڈیٹا خواہ وہ تحریری شکل میں ہو یا تصویری و فلم کی شکل میں، اس کی ڈاوٴن لوڈنگ اسپیڈ کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اور آپ موبائل پر اتنی ہی تیزی سے ڈیٹا ٹرانسفر یا شیئر کرسکیں گے جس طرح کمپیوٹر پر انٹرنیٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔

ٹو جی کے مقابلے میں نئی ٹیکنالوجی کی اسپیڈ میں کتنا فرق ہے اس کا اندازہ اس مثال سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اگر آپ کسی ویب سائٹ سے کوئی آڈیو فائل(مثلاً گانا وغیرہ) موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاوٴن لوڈ کرتے ہیں اور اس میں کم ازکم کچھ منٹ لگتے ہیں تو فور جی اسپیکٹرم ٹیکنالوجی اسی گانے کو صرف چند ہی سیکنڈ میں ڈاوٴن لوڈ کردے گی۔

یہی نہیں، بلکہ وڈیو ڈاوٴن لوڈنگ میں ٹو جی ٹیکنالوجی گیارہ بارہ منٹ لیتی ہے تو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی اسے بھی سیکنڈز میں ڈاوٴن لوڈ کرسکتی ہے۔ رہی بات کسی بھی عام ویب سائٹ کو اوپن کرنے، ایس ایم ایس، پکچر میسیجنگ، ایم ایم ایس، ای میل اور براوٴزنگ کی تو یہ سب کچھ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ہوا کی طرح ہلکا اور آسان ہوجائے گا۔

نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے دوران چیئرمین پی ٹی اے، ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے بتایا کہ ’تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم ٹیکنالوجی‘ سے ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں تو اضافہ ہوگا ہی، ساتھ ساتھ ملک میں روزگار کے نئے راستے کھلیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک بار یہ ٹیکنالوجی متعارف ہوگئی تو اس شعبے میں 9لاکھ نئی آسامیاں پیدا ہوں گی۔یہ نہایت کامیاب ٹیکنالوجی ہے۔ اب تک دنیا کے 101 ممالک یہ ٹیکنالوجی اپنا چکے ہیں۔ پاکستان کا نمبر 102واں ہوگا۔‘

پاکستان کے خبر رساں ادارے، اے پی پی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں23اپریل کو ہونے والی تھری جی لائسنس کی نیلامی کے لئے حال ہی میں باقاعدہ ایک پالیسی تیارکی گئی ہے جس کے بعد موبائل فون پر بھی تیزرفتار انٹرنیٹ سروس کی راہیں کھل گئی ہیں۔‘

وزیر مملکت آئی ٹی، انوشہ رحمٰن نے نیلامی سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ ملک کی چار موبائل فون کمپنیز موبی لنک، ٹیلی نار، چائنا موبائل (زونگ) اور یوفون، تھری جی اور فور جی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ نیلامی 2 دن بعد، یعنی بدھ 23اپریل کو اسلام آباد میں ہوگی۔

اربوں روپے کا مالی فائدہ
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق، ادارے کی جانب سے 6 لائسنس نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے، جن میں ایک ٹو جی، تین تھری جی اور دو 4 جی لائسنس شامل ہوں گے۔ ان کی مجموعی ابتدائی قیمت تقریبا 1.6 ارب ڈالر ہوگی۔ لائسنس کی مدت 15 سال ہوگی، پی ٹی اے 4جی لائسنس کے لیے 21 کروڑ ڈالر، 3 جی کا لائسنس 29 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور 2 جی کے لائسنس کے لیے 29 کروڑ 10لاکھ ڈالر کی ابتدائی قیمت کی پیشکش کرے گا۔4 جی لائسنس کے لیے بولی لگانے والی کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ 3 جی لائسنس حاصل کرے۔

سیکریٹری آئی ٹی، اخلاق تارڑ کے مطابق، پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 12 کروڑ 90 لاکھ ہے جبکہ ملک میں 72 فیصد آبادی کے پاس موبائل فون ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے چیئرمین، ڈاکٹر سید اسماعیل شاہ کا کہنا ہے کہ تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی ملکی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس کی بدولت مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی۔
XS
SM
MD
LG