رسائی کے لنکس

روہنگیا مسئلے کا حل ان کی میانمر واپسی ہے، بنگلہ دیش


روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش کی عارضی کیمپ میں جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ایک اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں دو لاکھ سے پانچ لاکھ تک روہنگیا موجود ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے۔

بنگلہ دیش اپنے اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ وہ خلیج بنگال میں واقع ایک جزیرے سے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ رہنے کے قابل نہیں ہے، روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجے گا جو تشدد سے جان بچانے کے لیے میانمر سے بھاگ کر وہاں آ گئے تھے۔

بنگلہ دیش کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ روہنگیا آبادی کا بنگلہ دیش میں قیام عارضی ہے اور بالآخر میانمر کو انہیں واپس لینا ہوگا۔

پچھلے سال اکتوبر میں میانمر کی شمالی مسلم اکثریتی ریاست راکین میں سرحدی پولیس پر حملوں کے بعد فوجی کارروائی کے آغاز سے تقریباً 69000 روہنگیا مسلمان بھاگ کر بنگلہ دیش آ گئے تھے۔

فوجی مہم کے دوران بڑی تعداد میں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

خارجہ أمور کے جونیئر بنگلہ دیشی وزیر شہریارعالم نے کہا ہے کہ تھنگار چار میں عارضی رہائش گاہیں اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے بعد پناہ گزینوں کو بتدریج وہاں منتقل کر دیا جائے گا لیکن یہ طے نہیں ہے کہ منتقلی کب سے شروع ہوگی۔

بے وطن روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقربیاً گیارہ لاکھ ہے اور وہ میانمر کی ریاست راکین میں انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔

میانمر انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا اور بنگلہ دیشی قرار دیتا ہے جب کہ بنگلہ دیش کی حکومت انہیں میانمر شہری قرار دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے روہنگیا اقلیت دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

تھنگار چار کے لیے کام کرنے والے ایک بنگلہ دیشی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سمندری لہروں کا نشانہ بننے والے اس ویران جزیرے کو رہائش کے قابل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جونیئر وزیر عالم نے کہا کہ بنگلہ دیش کاکسس بازار کے قریب سرحد پر روہنگیا آبادی کے لیے کیمپ بنائے گا ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ انہیں اس سلسلے میں باہر کی دنیا سے مالی امداد مل جائے گی۔

اس وقت تقربیاً 30000 لوگ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے بنائے ہوئے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ جب کہ مزید پناہ گزینوں کی آمد کی وجہ سے ہزاروں نئے خیموں کی ضرورت ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں دو لاکھ سے پانچ لاکھ تک روہنگیا موجود ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے۔

بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ ان کی تعداد میں مسلسل اضافے سے امن وامان کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

جونیئر وزیر عالم کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ میانمر انہیں واپس لے اور انہیں اپنے ملک کی شہریت دے۔

میانمر نے کہا ہے وہ صرف ان پناہ گزینوں کی واپسی پر بات کرنے کے لیے تیار ہے جو گذشتہ سال 9 اکتوبر کے بعد ملک سے گئے ہیں۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG