رسائی کے لنکس

تاشفین کے بارے میں سن کر ’ششدر‘ رہ گئے: لیہ کے رہائشی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کیلیفورنیا میں فائرنگ کے بعد جب یہ خبر منظر عام پر آئی کہ تاشفین ملک کا تعلق لیہ سے ہے تو ذرائع ابلاغ نے اُن کے آبائی علاقے کا رخ کیا۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں معذور افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر فائرنگ کے بعد پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہونے والی پاکستانی شہری تاشفین ملک کے چچا کا ایک گھر صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع لیہ میں ہے۔

کیلیفورنیا میں فائرنگ کے بعد جب یہ خبر منظر عام پر آئی کہ تاشفین ملک کا تعلق لیہ سے ہے تو ذرائع ابلاغ نے اُن کے آبائی علاقے کا رخ کیا۔

تاشفین کے چچا کا ایک گھر لیہ کے قصبے کہروڑ لعل عیسن میں واقع ہے جو ان دنوں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سے یہ گھر اب بند پڑا ہے۔

علاقے کے زیادہ تر لوگ تاشفین کے فعل یا اس معاملے پر بات چیت کرنے سے گریزاں ہیں۔

لیکن اس علاقے کے ایک رہائشی ڈاکٹر حسان الہی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طویل عرصہ ہو گیا ہے کہ تاشفین کے والد (گلزار) یہاں سے سعودی عرب چلے گئے تھے اب اُنھیں یہاں کوئی نہیں جانتا۔

’’جہاں تک تاشفین کا تعلق ہے کہ ہمیں تو اُس کا نام بھی نہیں پتا تھا۔۔۔۔ گلزار (تاشفین کے والد کو) کہروڑ چھوڑے ہوئے 30 سے 40 سال ہو گئے۔ اُن کی شادی ہوئی اور پھر وہ کہروڑ سے چلے گئے تھے۔ میں نے نہیں دیکھا اُس کے بعد یہاں پر۔‘‘

حسان الہی کا کہنا تھا کہ جب اُنھیں تاشفین سے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ کیلیفورنیا میں فائرنگ میں ملوث تھیں تو وہ ’’ششدر رہ گئے‘‘۔

تاشفین کے والد گلزار پاکستان سے سعودی عرب چلے گئے تھے اور تاشفین کی پرورش بھی وہیں ہوئی۔ بعد میں تاشفین 2007ء میں پاکستان آئیں جہاں اُنھوں نے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کی معروف درسگاہ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے فارمیسی کی تعلیم حاصل کی۔

اس دوران ملتان ہی میں تاشفین نے الھدیٰ نامی ایک مذہبی ادارے میں بھی داخلہ لیا لیکن اپنا کورس مکمل نہیں۔

الھدیٰ کی ترجمان فرخ چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دوران تعلیم تاشفین کا رویہ خاصا مثبت تھا اور عام طالبات کی طرح تھیں۔

تاہم اُنھوں نے تاشفین کے اقدام کی سختی سے مذمت کی۔ ’’یقیناً (اس کا عمل) اسلام کے مطابق نہیں ہے یہ مکمل طور پر اسلامی اقدار اور تعلیم کی خلاف ہے یقینی طور پر یہ (اسلام کے) خلاف ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔‘‘

تاشفین ملک اور اُن کے شوہر رضوان فاروق نے گزشتہ بدھ کو مقامی سرکاری ملازموں کی ایک تقریب میں فائرنگ کی جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 21 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں پولیس نے ان کو ایک کار میں فرار ہوتے ہوئے دیکھا اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران ان کی ہلاکت واقع ہوئی۔

XS
SM
MD
LG