رسائی کے لنکس

قاہرہ میں بم دھماکہ، چھ پولیس اہل کار ہلاک


قاہرہ میں بم دھماکے کے بعد پولیس شواہد اکھٹے کر رہی ہے۔ ( 9 دسمبر 2016 )

قاہرہ میں بم دھماکے کے بعد پولیس شواہد اکھٹے کر رہی ہے۔ ( 9 دسمبر 2016 )

مصر کی حکومت کو شبہ ہے کہ دھماکہ کرنے والے گروپ کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے اور اس نے اس سے پہلے بھی قاہرہ میں دھماکہ کیا تھا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک اہم شاہراہ پر قائم ایک پڑتالی چوکی کے نزدیک دھماکے میں چھ پولیس اہل کار ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکہ اہرام کی سمت جانے والی شاہراہ پر ہو ا، جہاں سے اکثر أوقات سیاحوں سے بھری ہوئی بسیں گذرتی ہیں۔

دھماکے سے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور پولیس کی ایک گاڑی کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، جس سے دھماکے مقام پر ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اور ملبہ بکھر گیا۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہل کاروں کے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور جانچ پڑتال شروع کر دی۔

حاسم نامی ایک گروپ نے انٹرنیٹ پر ایک پوسٹ میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گروپ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ جب آپ خدا کی راہ میں جہاد کے لیے ہتھیار اٹھا تے ہیں تو سیکیورٹی آپ کا راستہ نہیں روک سکتی اور اس راہ پر آپ کو یا تو فتح نصیب ہوتی ہے یا پھر شہادت۔

مصر کی حکومت کو شبہ ہے کہ اس گروپ کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے اور اس نے اس سے پہلے بھی قاہرہ میں دھماکہ کیا تھا۔

اس حملے نے قاہرہ کو مئی کے مہینے سے ہلاکت خیز شہر بنا دیا ہے جب ایک چھوٹی بس میں مسلح افراد نے سادہ کپڑوں میں ملبوس 8 پولیس اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG